گورنر راج مارشل لا کی شکل نہیں،یہ آئینی عمل ہے، سرکاری افراد پر حملہ کرنا غیرآئینی ہے، اعظم نذیر تارڑ
وزیر قانون کی گفتگو
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ جو حلف لیتے ہیں وہ ہمیں آئین اور قانون کے تحت چلنے کا پابند بناتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سیاسی آقاؤں کی خوشنودی اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہیں کرنی چاہیے، اور ماضی میں بھی ایسی معاملات کا خوش اسلوبی سے سامنا کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایک غیر ملکی نے کہا کہ مجرم کی معافی کے لئے نہیں کہنا بلکہ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ سزا پانیوالے مجرم پر خطاکار اور کمزور انسان سمجھ کر رحم اور کرم کیا جائے۔
پی ٹی آئی کا اسمبلی چھوڑنے کا فیصلہ
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا اسمبلی چھوڑ کر جانے کا فیصلہ غلط تھا۔ اگر پی ٹی آئی ایوان میں رہتی تو معاملات خراب نہ ہوتے۔ پاکستان ہے تو ہم سب ہیں، اور پاکستان چلے گا تو بانی پی ٹی آئی کو بھی امید ہوگی کہ ہو سکتا ہے وہ دوبارہ اقتدار میں آ جائیں۔ انہوں نے کہا کہ گورنر راج مارشل لا کی شکل نہیں بلکہ یہ آئینی عمل ہے، اور سرکاری افراد پر حملہ کرنا غیرآئینی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران سے پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی جاری، مزید 556 کوئٹہ پہنچ گئے
ملک کے حالات اور ماضی کے اسباق
وزیر قانون نے مزید کہا کہ ملک چلانے کے لئے ایسے لمحات آتے ہیں جب سوچنا پڑتا ہے۔ بھٹو کو پھانسی دی گئی، بے نظیر کو شہید کیا گیا، احتجاج ہوئے لیکن قیادت نے ملک کی خاطر کردار ادا کیا۔ نواز شریف کو دو بار ہٹایا گیا لیکن سرکاری اسلحہ لے کر اسلام آباد پر حملہ آور نہیں ہوئے۔ پہلے بہت غلطیاں ہو چکی ہیں، اور آپ نے بھی غلطیاں کی ہوں گی، ہم نے بھی کی ہوں گی، اور ہمارے ساتھ جو ہوتا رہا ہم نے لائن کراس نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے اشارہ کیا، نریندر سرینڈر، مودی نے جی حضور کہہ کر تعمیل کردی، راہول کی تنقید
2024 کے چیلنجز
انہوں نے کہا کہ 2024 کی بات کی جاتی ہے اور 90 سے زائد پٹیشنیں دائر کی گئی ہیں۔ خدا کے واسطے اس ملک کا سوچیں، نئی نسل کیا سبق لے گی؟ وزیراعظم نے کئی بار کہا کہ حل کرنے کے لئے مل بیٹھ کر بات چیت کرنی چاہیے، دھمکیاں دینے سے ایوان فتح نہیں ہوتے۔ جب حکومت کو بلائیں گے، ہم تیار ہیں۔
اسپیکر کی ہدایت
اسپیکر قومی اسمبلی نے حکومت کو اپوزیشن کے ساتھ مل کر مشاورت کی ہدایت کردی۔








