مولے کاجل نے ڈگری لینے پر اکتفا نہیں کیا، ’’ڈانس کے ذریعے امن کا فروغ‘‘ پر تحقیقی مقالہ سپرد قلم کیا جس پر انہیں ایم فل کی ڈگری عطا کی گئی
مضمون کا تعارف
مصنف:رانا امیر احمد خاں
قسط:234
یہ بھی پڑھیں: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں پھر اضافہ
محفل کا آغاز
صرف 10منٹ میں گرم گرم روٹیاں آنے لگیں گی تب تک سالن میزوں پر سجایا جائے گا۔ گھاس لگے سبز لان کی کرسیوں پر گپ شپ شروع ہوئی تو دیپک مالوی نے ہم لوگوں کا تعارف ایک سانولی سلونی خاتون ڈاکٹر کاجل مولے سے کروایا۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف نے معاشی اشاریوں پر اپنی پیشگوئیوں پر نظرثانی کرلی
ڈاکٹر کاجل مولے کا تعارف
ڈاکٹر کاجل سے میری، ظفر علی راجا اور ارشاد چوہدری کی ملاقات گزشتہ سال پاکستان میں ہو چکی تھی۔ گزشتہ برس آل پاکستان میوزک کانفرنس میں ڈاکٹر کاجل کو مدعو کیا گیا تھا جہاں انہوں نے اپنی آواز کا جادو جگایا تھا اور ہم شریک محفل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: یونانیوں اور رومنوں نے فرعونوں سے یہ علاقہ چھین کر حکومت قائم کی، روایتیں بھی ساتھ لائے، مردوں کو حنوط کرنے اور ممی بنانے کے فن کو مزید نفاست دی
تعلیمی پس منظر
ڈاکٹر کاجل کا بنیادی تعلق قائد اعظم کے پاکستان کے سابقہ مشرقی پاکستان، حال بنگلہ دیش کے شہر ڈھاکہ سے ہے۔ 25۔مارچ 1971ء کو مشرقی پاکستان کے شہروں میں ملٹری ایکشن شروع ہونے کے بعد ڈاکٹر کاجل اپنے خاندان کے ساتھ بھارت ہجرت کر گئیں تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: مخالف ٹیم کو زیادہ سے زیادہ دوڑانے کی کوشش کی، پاکستان کے خلاف دھواں دار بیٹنگ کرنے والے پلیئر آف دی میچ ایشان کشن کا بیان
تعلیمی کامیابیاں
انہوں نے 1987ء میں بھارت کے صوبہ گجرات کی ایم۔ ایس یونیورسٹی بڑودہ سے پرفارمنگ آرٹس میں بی بی اے کی ڈگری حاصل کی اور 2 سال بعد ماسٹر ڈگری ایم بی اے عطا کی گئی۔ ان کی تخصیص کتھک ناچ تھی۔ 1989ء میں نغمہ سرائی کے فن پر ڈپلومہ لیا اور 1993ء میں کلاسیکل گلوکاری میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس، مقامی معززین پر مشتمل مزید مؤثر مسجد مینجمنٹ کمیٹیوں کے قیام پر اتفاق، مدارس کا ڈیٹا، مساجد کی جیو ٹیکنگ مکمل۔
تحقیقی کام
مولے کاجل نے ناچ سیکھنے اور ناچ کی تعلیم میں ڈگری پر ڈگری لینے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ’ڈانس کے ذریعے امن کا فروغ“ پر ایک تحقیقی مقالہ سپرد قلم کیا جس پر انہیں ایم فل کی ڈگری عطا کی گئی۔ بعد ازاں امن تحقیق سنٹر احمد آباد میں “ڈانس کے ذریعے حصول امن” کے موضوع پر ایک تحقیقی مقالہ لکھا، جس پر 2004ء میں پی ایچ ڈی کی ڈگری عطا کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ایشین ایتھلیٹکس چیمپین شپ؛ پاکستان کے ارشد ندیم اور یاسر سلطان نے جیولن تھرو فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا
بین الاقوامی حیثیت
ڈاکٹر کاجل مولے نے بنگلہ دیش کے علاوہ پاکستان، جاپان، سنگاپور میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا ہے اور بھارت کے تمام بڑے شہروں میں کلاسیکل رقص کے لیے بلایا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے نیوزی لینڈ نے اسکواڈ کا اعلان کردیا
محفل کا اختتام
جلد ہی دیپک مالوی نے کھانا کھلنے کا اعلان کردیا۔ دسترخوان پر تنوری روٹیاں، پراٹھے، بیسنی روٹیاں، دال مسور، دال مونگ، آلو چھولے، سبزیوں کی بھجیا حتیٰ کہ حلوہ پوریاں بھی موجود تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی بیورو کریسی میں تقرر و تبادلے
تصاویری لمحے
ڈاکٹر کاجل مولے جب ہمارے ٹولے میں شامل ہوئیں تو انہوں نے راقم کا ہاتھ پکڑا اور ہمارے ساتھ ایک تصویر بنوائی۔
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








