کنگ چارلس نے اپنے چھوٹے بھائی کو تمام شاہی اعزازات سے محروم کر دیا
برطانوی شاہی خاندان میں نیا انکشاف
لندن (ڈیلی پاکستان آن لائن) برطانوی شاہی خاندان میں ایک اور ڈرامائی موڑ آگیا ہے۔ کنگ چارلس نے اپنے چھوٹے بھائی اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر سے آخری شاہی اعزازات بھی باضابطہ طور پر واپس لے لیے۔ اس کے بعد وہ کسی بھی شاہی خطاب یا اعزاز کے حامل نہیں رہے۔
یہ بھی پڑھیں: جے یو آئی کے سینیٹر کا واٹس ایپ ہیک، لوگوں کو پیسے مانگنے کے پیغامات موصول
اعزازات کی واپسی
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، اینڈریو اب نہ آرڈر آف دی گارٹر کے رکن رہے اور نہ ہی نائٹ آف دی گرانڈ کراس آف دی رائل وکٹوریہ آرڈر کے حامل۔ آرڈر آف دی گارٹر برطانیہ کا سب سے قدیم اور معتبر ترین اعزاز ہے جو قومی خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے جبکہ نائٹ آف دی گرانڈ کراس وہ اعزاز ہے جو بادشاہ کے لیے ذاتی خدمات انجام دینے والی شخصیات کو ملتا ہے۔ یہ دونوں اعزازات ان کے سرکاری ریکارڈ سے بھی حذف کر دیے گئے ہیں۔ ایک ماہ قبل ہی ان سے "پرنس" کا خطاب بھی واپس لے لیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے پاکستان کا 3سال کا فارمولا ماننے سے انکار کردیا،ڈیڈلاک برقرار
فیصلے کی بنیاد
ذرائع کے مطابق، یہ فیصلہ کنگ چارلس اور شہزادہ ولیم کی مشاورت سے کیا گیا جبکہ اینڈریو نے بھی اس اقدام سے اتفاق کیا۔ شاہی مؤقف کے مطابق بادشاہ اس نتیجے پر خوش ہیں۔ ایسا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ رائل نیوی جلد ہی انہیں وائس ایڈمرل کے عہدے سے بھی سبکدوش کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں اضافہ
رہائش سے فارغ ہونا
واضح رہے کہ چند ہفتےقبل کنگ چارلس نے اینڈریو کو اس گھر سے بھی نکال دیا تھا جہاں وہ 20 سال سے زیادہ عرصہ گزار چکے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: کالرہ سٹیٹ مریم نواز ہیلتھ کلینک سرگودھامیں ڈاکٹر ٹانگ پر ٹانگ رکھے موبائل فون میں مصروف،مریضہ بے بسی کی تصویر بنی رہی، ویڈیو سامنے آگئی
شاہی ساکھ کا زوال
اینڈریو کی شاہی ساکھ اس وقت تباہ ہونا شروع ہوئی جب ان کا نام جیفری ایپسٹین نامی مجرم اور جنسی استحصال کے نیٹ ورک میں جکڑا گیا۔ ایک خاتون ورجینیا جیفری نے الزام لگایا کہ اسے کم عمری میں اینڈریو تک پہنچایا گیا، تاہم شہزادے نے ان الزامات کو بارہا سختی سے مسترد کیا۔
مستقبل کی توقعات
اینڈریو اب نہ ڈیوک آف یارک کہلائیں گے، نہ پرنس، اور نہ ہی شاہی اشرافیہ کی فہرست میں شامل ہوں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اب انہیں مستقبل میں کبھی بھی بادشاہ یا سینئر شاہی افراد کے ساتھ عوامی تقریبات میں نہیں دیکھا جائے گا، تاہم شاہی روایات کے مطابق وہ اب بھی تختِ برطانیہ کی وراثتی لائن میں آٹھویں نمبر پر موجود ہیں۔








