پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، اقلیتوں کے حقوق کا کمیشن قائم کرنے کا بل منظور
پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جاری ہے، ایوان نے اقلیتوں کے حقوق کا کمیشن قائم کرنے کا بل منظور کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ کا گوجرانوالہ میں 13 سالہ گھریلو ملازمہ کے قتل کا نوٹس، آر پی او سے رپورٹ طلب
بل کی منظوری
روزنامہ جنگ کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا کہ بل کے حق میں 160 اور مخالفت میں 79 ووٹ آئے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے سرکاری ڈینٹل کالجوں کی سلیکشن لسٹ جاری کر دی گئی
اپوزیشن کی مخالفت
اس موقع پر اپوزیشن اراکین کی جانب سے سپیکر ڈائس کے سامنے کھڑے ہو کر حکومت مخالف نعرے لگائے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: سابق پاکستانی فاسٹ بولر امریکی کرکٹ ٹیم میں شامل
وزیر قانون کا بیان
ایوان سے خطاب میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ یہ ایکٹ کہتا ہے کہ یہ قانون اقلیتوں سے متعلق ہے، قادیانی اپنے آپ کو غیر مسلم نہیں کہلاتے۔ جو ایسا کرتے ہیں انہیں آئین کے آرٹیکل 25 کا تحفظ حاصل نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہاتھ جوڑ کر کہتا ہوں کہ یہ ملک میں اقلیتوں کے حقوق کا بل ہے، اس بل سے قیدی نمبر 804 کو کچھ نہیں ہو گا۔
یہ بھی پڑھیں: ایبٹ آباد: جنسی زیادتی کا شکار 14 سال کی گھریلو ملازمہ دم توڑ گئی
سپریم کورٹ کا فیصلہ
وزیر قانون کا کہنا تھا کہ 2014 میں سپریم کورٹ نے کہا اقلیتوں کے لیے ایک کمیشن بنائیں، قانون میں واضح ہے کہ قادیانی غیرمسلم ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کا شکریہ کہ ان کے اراکین نے اس بل میں ترامیم دیں۔
یہ بھی پڑھیں: 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس، عدالت نے 14 صفحات اور 79 سوالوں پر مشتمل سوال نامہ بانی پی ٹی آئی کو فراہم کر دیا
چیئرمین سینیٹ کا اعلامیہ
چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ویمن اور اقلیتیں میرا حلقہ ہیں، ان کے حقوق کے لیے ہمارے قائد نے جب پرچم بنایا تھا تو سفید حصہ اقلیتوں کے لیے تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیکس نیٹ بڑھنے اور جاری اصلاحات سے عام آدمی پر ٹیکسز کا بوجھ کم ہوگا: وزیراعظم
جے یو آئی کی رائے
اس موقع پر جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مسئلہ اقلیتوں کا نہیں اس پر ہم سب کی سوچ ایک ہے، ہم ایسے قانون کی طرف کیوں جارہے ہیں جس سے کوئی فائدہ اٹھائے۔
جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ جے یو آئی پاکستان یہ تاثر نہیں دینا چاہتی کہ ہم اقلیتوں کے حقوق کے مخالف ہیں، اس مجوزہ قانون کے سیکشن 35 کو مکمل طور پر ختم کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کا ایران پر حملہ، ترک صدر کا بیان بھی آگیا
انسانی حقوق کا مسئلہ
علامہ ناصر عباس نے کہا کہ ملک میں انسانی حقوق نہیں ہیں، اہم اجلاس میں غیرمعمولی قانون سازی ہو رہی ہے، مگر ایوان میں لیڈرآف دی اپوزیشن نہیں۔
پیپلز پارٹی کا مؤقف
پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ قادیانیوں کو کافر قرار دینے کا قانون بغیر ڈاڑھی والے ذوالفقارعلی بھٹو نے پاس کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایسا کوئی فلڈ گیٹ نہ کھولیں جس سے ناموس پر کوئی حرف آئے، ہم ایسی کوئی قانون سازی نہیں ہونے دیں گے۔








