27ویں ترمیم میں پارٹی پالیسی سے انحراف، پی ٹی آئی نے سینیٹر سیف اللہ ابڑو کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا
پی ٹی آئی کا سینیٹر سیف اللہ ابڑو کو شوکاز نوٹس
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی جانب سے 27ویں ترمیم میں پارٹی پالیسی سے انحراف پر پی ٹی آئی نے سینیٹر کو ترمیم کے حق میں ووٹ دینے پر شوکاز نوٹس جاری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے پی ٹی ایم کو کالعدم تنظیم قرار دیا تو یہاں حالات کشیدہ ہوگئے: علی امین گنڈا پور
شوکاز نوٹس کی تفصیلات
شوکاز نوٹس کی کاپی چیئرمین سینیٹ سیکریٹریٹ میں بھی جمع کروا دی گئی۔ شوکاز نوٹس کے متن کے مطابق سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے 10 اور 15 نومبر کو پارٹی ہدایت کے خلاف ووٹ دیا جبکہ پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی نے 27ویں ترمیم کی مخالفت کا واضح فیصلہ کیا تھا اور تمام سینیٹرز کو تحریری طور پر ترمیم کے خلاف ووٹ دینے کی ہدایت جاری کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: انٹربینک میں ڈالر 1روپے 22پیسے، اوپن مارکیٹ میں 2روپے سستا
پارٹی کی ہدایات کی خلاف ورزی
ریکارڈ کے مطابق ہدایات سینیٹر تک باضابطہ طور پر پہنچائی گئی تھیں، سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی فیصلے کی خلاف ورزی دانستہ اور ارادی اقدام ہے۔ نوٹس کے مطابق سینیٹر سیف اللہ ابڑو پر خلاف ورزی پر آئین کا آرٹیکل 63 اے (1) (ب) لاگو ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یونان کے ساحل کے قریب کشتی حادثہ، 22 تارکین وطن لقمۂ اجل بن گئے
آرٹیکل 63 اے کی تشریح
آرٹیکل 63 اے کے تحت پارٹی ہدایت کے خلاف ووٹ دینے والا رکن منحرف تصور ہو سکتا ہے، سپریم کورٹ کی تشریح کے مطابق پارٹی کی ہدایت لازمی اور پابندِ عمل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی ٹیسٹ: دوسرے دن کے کھیل کا آغاز، پاکستان نے 3 وکٹوں کے نقصان پر 80 رنز بنالیے
وضاحت کی مدت اور ممکنہ اقدامات
شوکاز نوٹس کے متن میں کہا گیا کہ سینیٹر سیف اللہ ابڑو سات روز کے اندر تحریری وضاحت دیں، سیف اللہ ابڑو کی وضاحت نہ آئی تو پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی تصور ہوگی۔ سیف ابڑو کا معاملہ الیکشن کمیشن کو بھیجا جا سکتا ہے جبکہ نااہلی کے لیے ریفرنس ارسال کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
شوکاز نوٹس کا اجرا
شوکاز نوٹس سینیٹر سید علی ظفر کی جانب سے جاری کیا گیا۔








