اگر یورپ نے روس کے ساتھ جنگ شروع کرنے کی غلطی کی تو ایسی شکست ہوگی کہ مذاکرات کیلئے بھی کوئی فریق باقی نہیں بچے گا، پیوٹن کی دھمکی
پیوٹن کی یورپی طاقتوں کو وارننگ
ماسکو (ڈیلی پاکستان آن لائن) روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے منگل کو یورپی طاقتوں کو دوٹوک وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یورپ نے روس کے ساتھ جنگ شروع کرنے کی غلطی کی تو ماسکو پوری طرح تیار ہے، اور یورپ کو ایسی شکست ہوگی کہ وہاں مذاکرات کے لیے کوئی فریق باقی نہیں بچے گا۔
یہ بھی پڑھیں: اوورسیز کے لیے الگ عدالتوں کا قیام اور گرین چینل کی بحالی خوش آئند ہے:صدر پاکستانی امریکن چیمبر آف کامرس نوید انور
یورپ کی جنگ کی تیاری پر پیوٹن کا بیان
خبر ایجنسی روئٹرز کے مطابق روسی میڈیا میں ہنگری کے وزیر خارجہ پیٹر سیجیارٹو کے اس بیان کے حوالے سے جب پیوٹن سے پوچھا گیا کہ یورپ روس کے خلاف جنگ کی تیاری کر رہا ہے، تو پیوٹن نے کہا کہ روس یورپ سے جنگ نہیں چاہتا لیکن انہوں نے ساتھ ہی واضح کیا کہ “اگر یورپ اچانک ہم سے جنگ شروع کرنا چاہے اور آغاز کر دے، تو یورپ کے لیے انجام اتنا تیز اور تباہ کن ہوگا کہ مذاکرات کے لیے وہاں کوئی نہیں بچے گا۔”
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ، نیتن یاہو کا فلسطینیوں کو غزہ سے بے دخل کرنے کے منصوبے میں پیش رفت کا اشارہ
روس کی فوجی حکمت عملی
پیوٹن نے دعویٰ کیا کہ یوکرین میں روس کی کارروائیاں “مکمل جنگ” نہیں بلکہ “سرجیکل آپریشن” جیسی ہیں، اور اگر براہِ راست یورپی طاقتوں سے مقابلہ ہوا تو روس کا ردعمل کہیں زیادہ سخت اور وسیع ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: مخصوص نشستوں سے متعلق کیس؛ سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی متفرق درخواستوں پر فیصلہ سنا دیا
یورپی ممالک پر الزام
انہوں نے مزید کہا: “اگر یورپ لڑنا چاہتا ہے اور شروع کرے، تو ہم اس وقت بھی تیار ہیں۔” روسی صدر نے یورپی ممالک پر الزام لگایا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی یوکرین جنگ ختم کرنے کی کوششوں میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں، اور ایسے امن منصوبے پیش کر رہے ہیں جنہیں وہ جانتے ہیں کہ ماسکو کبھی قبول نہیں کرے گا، تاکہ بعد میں الزام روس پر ڈالا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں خود کش حملے کے پیچھے افغانستان کا ہاتھ، اہم شواہد سامنے آگئے
یورپ کی امن مذاکرات سے دوری
پیوٹن نے کہا کہ یورپی ممالک نے خود کو یوکرین امن مذاکرات سے دور کر لیا ہے کیونکہ انہوں نے ماسکو سے سفارتی رابطے منقطع کر رکھے ہیں۔ وہ جنگ کے فریق بن چکے ہیں، امن کے نہیں۔
یوکرینی ڈرون حملوں کا جواب
مزید برآں، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یوکرینی ڈرون حملے روس کے “شیڈو فلیٹ” ٹینکروں پر جاری رہے تو روس یوکرین کی سمندر تک رسائی مکمل طور پر کاٹ سکتا ہے۔








