لاہور ہائیکورٹ، 13 سالہ بچے کو حقیقی والدین سے لے کر لے پالک والدین کے حوالے کرنے کا حکم
لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائی کورٹ نے بچوں کی حوالگی کے کیس کا فیصلہ جاری کر دیا۔ عدالت نے 13 سالہ بچے کو حقیقی والدین سے لے کر لے پالک والدین کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کوغیر مشروط طور پر سرنڈر کرنے کا مشورہ دے دیا
عدالتی کاروائی
روزنامہ جنگ کے مطابق جسٹس فیصل زمان خان نے ارشد علی کی درخواست پر 8 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کرتے ہوئے لے پالک والدین سے بچے کی حوالگی حقیقی والدین کو دینے کا ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان امور طے، 4 مستقل کمیٹیاں قائم کر دی گئیں
بچے کی رائے کی اہمیت
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بچوں کی حوالگی کے کیس میں ان کی خواہش اور ذہنی کیفیت کو مقدم رکھا جائے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق بچے کی رائے کو اہمیت دینا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لو جی اسی لوگ امرتسر میں پہنچ رہے ہیں۔۔۔ یہ انڈیا گیٹ کا علاقہ ہے
کیشس کے حالات
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ موجودہ کیس میں بچے نے لے پالک والدین کے ساتھ جانے کا بیان دیا، عدالت نے ایک ہفتے کے لیے بچے کو حقیقی والدین کے ساتھ بھیجا۔ بچے نے دوبارہ پیشی پر پھر لے پالک والدین کے ساتھ جانے کا بیان دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر کا ود ہولڈنگ ٹیکس کو غیرشرعی قرار دینے پر اسلامی نظریاتی کونسل کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ
حقیقی والدین کی صورتحال
لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ بچے کی حوالگی کے کیس اصولی طور پر حقیقی والدین کو ترجیحی حق حاصل ہوتا ہے، حقیقی والدین نے اپنی مرضی سے پیدائش کے وقت بچہ اپنے بھائی کو دیا، لے پالک والدین نے 9 سال تک بچے کی پرورش کی، اس کی عمر 13 برس ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چمن میں زلزلہ
فیصلے کی تفصیلات
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ حقیقی والد کی 3 شادیاں اور 13 بچے ہیں، اتنے بڑے خاندان میں بچے کو بھیجنا مناسب نہیں، حقیقی والدین یہ نہیں ثابت کر سکے کہ بچے کی بہتر پرورش نہیں ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان پر بھارتی میزائل حملے، چین نے ردعمل جاری کردیا
بچے کے مفادات کی حفاظت
عدالت نے کہا کہ بچہ بغیر کسی شکایت کے 9 سال تک گود لینے والے والدین کے ساتھ رہا، ایک صبح اچانک بچے پر بم گرایا گیا کہ وہ اصل والدین کے ساتھ نہیں رہ رہا، بچے کو اچانک اجنبی ماحول میں بھیج دینا اس کے مفاد میں نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت سندھ نے یوم عاشور کی مناسبت سے دو روز کی عام تعطیل کا اعلان کردیا
گھریلو تنازع کی حقیقت
تحریری فیصلے کا کہنا ہے کہ بچے کے کیا جذبات ہوں گے جب پتہ چلا کہ یہ 6 بہنیں اور ایک بھائی اس کے اپنے نہیں، گھریلو تنازع کی بنیاد پر حقیقی والدین نے بچے کی حوالگی کا دعویٰ دائر کیا، موجودہ کیس میں بچے کی فلاح نہیں بلکہ گھریلو تنازع دعوے کی وجہ بنا۔
عدالت کی ہدایت
لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بھائی نے پیدائش کے وقت اپنی مرضی سے بچہ انہیں دیا، حقیقی والدین کے مطابق بچے کو کچھ عرصے کے لیے بھائی کو دیا تھا، حقیقی والدین حوالگی کے عارضی ہونے کا ثبوت نہ دے سکے، حقیقی والدین بچے سے ملاقات کے لیے گارڈین کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔








