لاہور ہائیکورٹ، 13 سالہ بچے کو حقیقی والدین سے لے کر لے پالک والدین کے حوالے کرنے کا حکم
لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائی کورٹ نے بچوں کی حوالگی کے کیس کا فیصلہ جاری کر دیا۔ عدالت نے 13 سالہ بچے کو حقیقی والدین سے لے کر لے پالک والدین کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: صدرمملکت، وزیراعظم اور مسلح افواج کے سربراہان کو کیا تحائف ملے؟ توشہ خانہ کا 6 ماہ کا ریکارڈ جاری۔
عدالتی کاروائی
روزنامہ جنگ کے مطابق جسٹس فیصل زمان خان نے ارشد علی کی درخواست پر 8 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کرتے ہوئے لے پالک والدین سے بچے کی حوالگی حقیقی والدین کو دینے کا ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بچوں کے لیے خوشخبری، 8 سال انتظار کے بعد لاہور میں زرافہ دیکھ سکیں گے: وزیر اعلیٰ کا ’’ایکس‘‘ پر پیغام
بچے کی رائے کی اہمیت
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بچوں کی حوالگی کے کیس میں ان کی خواہش اور ذہنی کیفیت کو مقدم رکھا جائے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق بچے کی رائے کو اہمیت دینا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں پوسٹ آفس کی تاریخ کا سب سے بڑا سکینڈل بے نقاب
کیشس کے حالات
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ موجودہ کیس میں بچے نے لے پالک والدین کے ساتھ جانے کا بیان دیا، عدالت نے ایک ہفتے کے لیے بچے کو حقیقی والدین کے ساتھ بھیجا۔ بچے نے دوبارہ پیشی پر پھر لے پالک والدین کے ساتھ جانے کا بیان دیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کی دوحہ میں امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ملاقات، اسرائیلی حملے کی مذمت
حقیقی والدین کی صورتحال
لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ بچے کی حوالگی کے کیس اصولی طور پر حقیقی والدین کو ترجیحی حق حاصل ہوتا ہے، حقیقی والدین نے اپنی مرضی سے پیدائش کے وقت بچہ اپنے بھائی کو دیا، لے پالک والدین نے 9 سال تک بچے کی پرورش کی، اس کی عمر 13 برس ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فضائی حدود بند ہونے کے باوجود ایئر انڈیا کی فلائٹ کی پاکستان میں پرواز، حقیقت کیا ہے؟
فیصلے کی تفصیلات
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ حقیقی والد کی 3 شادیاں اور 13 بچے ہیں، اتنے بڑے خاندان میں بچے کو بھیجنا مناسب نہیں، حقیقی والدین یہ نہیں ثابت کر سکے کہ بچے کی بہتر پرورش نہیں ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان امن کا خواہاں ہے، ہر حال میں اپنی علاقائی سالمیت اور خود مختاری کا دفاع کرے گا: ترجمان دفتر خارجہ
بچے کے مفادات کی حفاظت
عدالت نے کہا کہ بچہ بغیر کسی شکایت کے 9 سال تک گود لینے والے والدین کے ساتھ رہا، ایک صبح اچانک بچے پر بم گرایا گیا کہ وہ اصل والدین کے ساتھ نہیں رہ رہا، بچے کو اچانک اجنبی ماحول میں بھیج دینا اس کے مفاد میں نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہنگو میں شہید ہونیوالے پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی نماز جنازہ ، کور کمانڈر پشاور سمیت اعلیٰ عسکری و سول حکام کی شرکت
گھریلو تنازع کی حقیقت
تحریری فیصلے کا کہنا ہے کہ بچے کے کیا جذبات ہوں گے جب پتہ چلا کہ یہ 6 بہنیں اور ایک بھائی اس کے اپنے نہیں، گھریلو تنازع کی بنیاد پر حقیقی والدین نے بچے کی حوالگی کا دعویٰ دائر کیا، موجودہ کیس میں بچے کی فلاح نہیں بلکہ گھریلو تنازع دعوے کی وجہ بنا۔
عدالت کی ہدایت
لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بھائی نے پیدائش کے وقت اپنی مرضی سے بچہ انہیں دیا، حقیقی والدین کے مطابق بچے کو کچھ عرصے کے لیے بھائی کو دیا تھا، حقیقی والدین حوالگی کے عارضی ہونے کا ثبوت نہ دے سکے، حقیقی والدین بچے سے ملاقات کے لیے گارڈین کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔








