مرتضیٰ بھٹو قتل کیس، عدالت کی اپیل میں درست دستاویزات منسلک کرنے کی ہدایت
سندھ ہائیکورٹ کا حکم
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)سندھ ہائیکورٹ نے میر مرتضیٰ بھٹو قتل کیس کی اپیلوں کی سماعت پر مرحوم پولیس افسر شاہد حیات کی اپیل میں درست دستاویزات منسلک کرنے کی ہدایت کردی۔
یہ بھی پڑھیں: رانا ثناء اللہ کی پی ٹی آئی سے 14 اگست کو احتجاج کی کال واپس لینے کی اپیل
عدالت میں پیش کردہ معلومات
روزنامہ جنگ کے مطابق دوران سماعت وکلا نے عدالت کو بتایا کہ کیس میں متعدد ملزمان انتقال کرچکے ہیں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ کیس میں نامزد شاہد حیات، شبیر احمد قائمخانی، آغا محمد جمیل اور مسعود شریف کا انتقال ہوچکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سندس فاؤنڈیشن کے وفد کی اوورسیز پاکستانیز کمیشن پنجاب کے وائس چیئرپرسن بیرسٹر امجد ملک سے ملاقات
دستاویزات کی حیثیت
وکیل اپیل کننده نے عدالت کو بتایا کہ کیس میں نامزد مرحوم پولیس افسر شاہد حیات کی اپیل میں منسلک دستاویزات پڑھنے کے قابل نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مطیع اللہ جان نے وزیراعلیٰ بلوچستان کے سپریم کورٹ بار سے خطاب کی روداد بیان کردی
سماعت کی نئی تاریخ
عدالت نے درست دستاویزات اپیل کے ساتھ منسلک کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے وکلا کی استدعا پر اپیل کی سماعت 27 جنوری تک ملتوی کردی۔
مرتضیٰ بھٹو کا قتل
مرتضیٰ بھٹو کو 1996 میں کراچی میں دو تلوار کے قریب مبینہ پولیس مقابلے میں قتل کردیا گیا تھا، واقعے کے دو مقدمات درج کیے گئے تھے۔
ایک مقدمہ سرکار اور دوسرا مرتضیٰ بھٹو کے اہلخانہ کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا، ٹرائل کورٹ نے دونوں مقدمات میں تمام ملزمان کو بری کردیا تھا۔








