جو حکومت گٹر کے دھکن نہیں لگا سکتی وہ اور کیا کرے گی، زبیر عمر
پاکستان میں اقتصادی بحران
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنما زبیر عمر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ایکسپورٹ گر گئی ہے۔ تجارتی خسارہ 37 فیصد بڑھ گیا ہے۔ جنرل سرفراز نے اعتراف کیا کہ پاکستان میں کاروبار اب نہیں چل سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت میں پھر اضافہ، فی تولہ قیمت 4 لاکھ 31 ہزار 562 روپے ہو گئی
سرمایہ کاری کا ماحول
ایس آئی ایف سی کے افسر نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کا ماحول نہیں ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے بھی کہہ دیا ہے کہ حکومت اپنی پالیسی تبدیل کرے۔ نجکاری کے وزیر کہتے ہیں کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کا موقع ہے لیکن گورننس سسٹم ایسا ہے کہ کوئی سرمایہ کاری نہیں کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: خضدار: نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نصیر مینگل کا بیٹا قتل، پوتا زخمی
وزیر اعظم کی خاموشی
وزیر اعظم کا جواب دینا پونے 4 سال بعد بنتا ہے۔ گورننس کے حوالے سے 120 ممالک میں پاکستان کا نمبر 109 ہے۔ یہ ہیں ہمارے حالات۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعرات) کا دن کیسا رہے گا؟
بیروزگاری اور مہنگائی
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے زبیر عمر نے کہا کہ بیروزگاری کی شرح 21 سال کے بعد سب سے بلند سطح پر پہنچ گئی۔ وزیر اعظم اور ڈپٹی وزیر اعظم نے آئی ایم ایف کی 5300 ارب کی کرپشن رپورٹ پر وضاحت نہیں دی۔ حکومت، بیروگاری، غربت سمیت کسی معاملے پر بات نہیں کرتی، شرمندگی اٹھانا پڑتی ہے۔ جو خریداری 20 ہزار میں ہوتی تھی، وہ 50 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔
حادثات اور حکومتی کارکردگی
کراچی میں مین ہول میں گر کر بچے کی ہلاکت کے معاملے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ پہلا نہیں ہے۔ جو حکومت گٹر کے دھکن نہیں لگا سکتی، وہ اور کیا کرے گی۔








