کسی ایک ملک کی خودمختاری کی خلاف ورزی تمام ریاستوں کی اجتماعی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ تصور ہوگی، خلیج تعاون کونسل
خلیجی تعاون کونسل کا 46واں اجلاس
منامہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) بحرین میں بدھ کے روز منعقد ہونے والے خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے 46ویں اجلاس میں خلیجی رہنماؤں نے واضح کیا کہ رکن ممالک کی سلامتی اور استحکام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اور کسی ایک ملک کی خودمختاری کی خلاف ورزی تمام ریاستوں کی اجتماعی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ تصور ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: پختونخوا نے سب سے زیادہ لاشیں اٹھائیں، وہیں دہشتگردوں کیخلاف اقدامات پر سیاست ہو رہی ہے، طارق فضل چوہدری
سخیّر ڈیکلریشن 2025
العربیہ کے مطابق سخیّر ڈیکلریشن 2025 میں خلیجی رہنماؤں نے جی سی سی رکن ممالک سمیت پورے خطے کی ریاستوں کی خودمختاری کے احترام پر زور دیا۔ انہوں نے داخلی معاملات میں مداخلت، طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی کو یکسر مسترد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: مصروف دفتری اوقات میں ورزش کرنے کے طریقے
علاقائی سلامتی کے تحفظ کا عزم
اعلامیے میں علاقائی سلامتی کے تحفظ کے لیے عالمی تعاون کو مضبوط بنانے، اور دوست ممالک، بین الاقوامی تنظیموں اور اقتصادی بلاکس کے ساتھ سیاسی، سکیورٹی اور اقتصادی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ اس کے ساتھ پائیدار ترقی سے متعلق شعبوں میں باہمی تعاون بڑھانے کی اہمیت بھی اجاگر کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ کون ہینڈل کرتا ہے؟این سی سی آئی اے کو دوسری بارناکامی کا سامنا
انتہاپسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ
رہنماؤں نے ہر قسم کی انتہاپسندی، دہشت گردی، نفرت انگیزی اور اشتعال انگیزی کے خاتمے کے لیے مشترکہ اقدامات کا مطالبہ کیا، جبکہ سرحد پار جرائم کے خلاف تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بحرین میں قائم مشترکہ میری ٹائم فورسز کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ فورسز توانائی کی سپلائی، سمندری راستوں کی سکیورٹی اور عالمی تجارت کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دلہن والوں نے دولہا اور اس کے والد کو یرغمال بنا لیا, لیکن کیوں؟ حیران کن انکشاف
جوہری ہتھیاروں سے پاک خطہ
اعلامیے میں مشرقِ وسطیٰ کو جوہری اور دیگر تباہ کن ہتھیاروں سے پاک خطہ بنانے، اسلحے کی دوڑ روکنے اور علاقائی استحکام کو مضبوط کرنے کے عزم کو بھی دہرایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی غرور خاک میں ملانے پرپاکستانی عوام کا مسلح افواج کو خراج تحسین، ریلیاں نکالیں
امن کے حصول کی کوششیں
مشرقِ وسطیٰ میں منصفانہ، جامع اور پائیدار امن کے حصول کے لیے خلیجی رہنماؤں نے شرم الشیخ امن کانفرنس کے نتائج کا خیرمقدم کیا۔ سخیّر ڈیکلریشن کے ذریعے انہوں نے جنگِ غزہ کے خاتمے سے متعلق معاہدے پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے علاقائی اور عالمی کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا۔
غزہ کے لیے انسانی امداد
مزید برآں رہنماؤں نے غزہ کے لیے انسانی امداد، تعمیرِ نو، اور امن عمل کی طرف لے جانے والے تمام اقدامات کو تیز کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ فلسطینی عوام اور پورے خطے کے امن کی خواہش صرف اسی صورت پوری ہوسکتی ہے جب 4 جون 1967ء کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست قائم ہو، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو، اور جو دو ریاستی حل، عرب امن منصوبے اور متعلقہ عالمی قراردادوں کے مطابق ہو۔








