وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کے لیے قومی مالیاتی کمیشن کا اجلاس آج ہوگا۔
وفاق اور صوبوں کے درمیان قومی مالیاتی کمیشن کا اجلاس
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کے لئے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کا گیارہویں اجلاس آج ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: مئی تنازعے کے تقریباً ساڑھے 5 مہینے بعد رافیل پائلٹ شیوانگی سنگھ منظر عام پر آگئیں۔
اجلاس کی صدارت
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اجلاس کی صدارت کریں گے، نئے این ایف سی ایوارڈ پر آئی ایم ایف بھی آن بورڈ رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کے ٹیکس بحال، مارکیٹوں میں ہلچل، غیر یقینی صورتحال، سرمایہ کاروں کی نیندیں اڑ گئیں
شرکاء کی تفصیلات
ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق چاروں صوبوں کے وزرائے خزانہ، ٹیکنوکریٹس اور کمیشن کے ممبر شریک ہوں گے۔ پنجاب سے ناصر محمود کھوسہ، سندھ سے اسد سعید، بلوچستان سے محفوظ خان، اور کے پی سے مشرف رسول کی شرکت متوقع ہے۔ اجلاس میں شرکت کے لیے تمام این ایف سی ارکان کو دعوت دی گئی ہے۔ این ایف سی اجلاس میں وفاقی سیکرٹری خزانہ کمیشن کے آفیشل ایکسپرٹ ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب پبلک سروس کمیشن نے 4محکموں میں مختلف اسامیوں کے حتمی نتائج کا اعلان کر دیا
ایجنڈے کی تفصیلات
ذرائع نے بتایا کہ ایوارڈ سے متعلق سفارشات اور ذیلی گروپس قائم کرنے کا جائزہ ایجنڈے کا حصہ ہے۔ مستقبل کے اجلاسوں کے حوالے سے لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: 36 سال بعد بھارتی ٹیم کو ہوم گراؤنڈ پر نیوزی لینڈ کے ہاتھوں شکست
وفاقی وزیر خزانہ کا بیان
اس حوالے سے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ اجلاس میں پاکستان فرسٹ کے جذبے سے بیٹھیں گے، صوبوں کی بات سنیں گے اور اپنی صورتحال صوبوں کے سامنے رکھیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: گلابی گیند کے کھیلنے میں وہ غلطی جو روہت شرما اور کوہلی کے لیے پریشانی بن گئی
موجودہ این ایف سی ایوارڈ کی صورت حال
واضح رہے کہ موجودہ ساتواں این ایف سی ایوارڈ جولائی 2010 سے نافذ ہے، آئین کے مطابق ہر پانچ سال بعد این ایف سی پر نظرثانی لازم ہے، لیکن 2015 میں شیڈول اجلاس اب تک نہیں ہو سکا۔
یہ بھی پڑھیں: آج بھی غزہ میں کربلا دہرایا جا رہا ہے اور عالم اسلام بدستور خاموش ہے: خواجہ آصف
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کا اجلاس
دوسری جانب گزشتہ روز وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی زیر صدارت این ایف سی اجلاس کی تیاری کے لئے اہم مشاورتی اجلاس ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں گھر سے خاتون کی گلا کٹی لاش برآمد
اجلاس کی مزید تفصیلات
اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو این ایف سی سے متعلق جامع بریفنگ دی گئی۔ این ایف سی سے متعلق صوبے کے مالی اور آئینی حقوق پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا، اور صوبے کے حقوق کے حصول کے لئے ہر فورم پر بھرپور جدوجہد جاری رکھنے کا اعادہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ؛پی ٹی آئی نے الیکشن ایکٹ ترمیم کیخلاف درخواست واپس لے لی
سابق فاٹا کا مالی انضمام
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سابق فاٹا کا انتظامی انضمام ہو چکا ہے مگر مالی انضمام اب تک نہیں ہوا۔ این ایف سی کی مد میں سابق فاٹا کے انضمام سے اب تک ضم اضلاع کے 1375 ارب روپے بنتے ہیں جو نہیں دیے جا رہے۔
مالی وعدے اور بقایا جات
سابق فاٹا کے انضمام کے وقت 100 ارب روپے سالانہ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا جو اب تک 700 ارب روپے بنتے ہیں۔ اس مد میں 700 ارب روپے میں سے وفاق نے صرف 168 ارب روپے دیے جبکہ 531.9 ارب روپے وفاق کے ذمے بقایا ہیں۔ ضم اضلاع کا حصہ نہ ملنا آئین کی خلاف ورزی ہے، صوبے کے مالی و آئینی حقوق کا بھرپور تحفظ کیا جائے گا.








