افغانستان، ایک ہی گھر کے 13 افراد قتل کرنے والے مجرم کو ہزاروں لوگوں کے سامنے سزائے موت دے دی گئی
افغانستان میں سرعام سزائے موت
کابل (ویب ڈیسک) افغانستان کے صوبہ خوست میں ایک ہی گھر کے 13 افراد قتل کرنے والے مجرم کو سٹیڈیم میں ہزاروں لوگوں کے سامنے سزائے موت دے دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت پٹرول پر مختلف ٹیکس ملا کر تقریباً 120 روپے وصول کر رہی ہے، وزرا، سرکاری افسروں کی مفت پٹرول کی سہولت ختم ہونی چاہئے، حافظ نعیم الرحمان
سزا کا منظر
برطانوی میڈیا کے مطابق خوست کے سٹیڈیم میں یہ سزا اس وقت دی گئی جب سٹیڈیم لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ مجرم نے خواتین اور بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے 13 افراد کو قتل کیا تھا جس کے باعث علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جاتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی جیت پر امریکی خواتین نے مردوں کا ’بائیکاٹ‘ کرنے کا اعلان کر دیا
طالبان انتظامیہ کا اقدام
طالبان انتظامیہ نے مقتولین کے لواحقین کی درخواست پر 13 سالہ لڑکے سے فائرنگ کروا کر قاتل کو انجام تک پہنچایا۔ طالبان کی سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ لواحقین نے قاتل کو معاف کرنے سے صاف انکار کردیا تھا جس کے بعد اسلامی قانون کے مطابق اسے سزائے موت دی گئی۔
اقوام متحدہ کا موقف
اقوام متحدہ نے اس واقعے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح سرعام سزائے موت دینا غیر انسانی، ظالمانہ اور عالمی قوانین کے منافی عمل ہے۔ رپورٹس کے مطابق 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اب تک افغانستان میں 11 افراد کو سرعام سزائے موت دی جا چکی ہے۔








