چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے موٹر وہیکل آرڈیننس میں ترمیم کیخلاف درخواست مسترد کر دی

لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے صوبائی حکومت کی جانب سے کی جانے والی موٹر وہیکل آرڈیننس میں ترامیم کے خلاف درخواست کو مسترد کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: باپ وہ چراغ ہے جو اولاد کے ہر اندھیرے میں روشنی بنتا ہے: وزیر اعلیٰ مریم نواز

درخواست گزار کا مؤقف

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے موٹر وہیکل آرڈیننس میں ترامیم کے خلاف آصف شاکر ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ پولیس کم عمر بچوں پر ایف آئی آرز درج کررہی ہے اور پھر قانون سازی کرکے بھاری جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو ٹریفک قوانین سے آگاہی دینے کی بجائے جرمانہ اور ایف آئی آر کرنا درست نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان نے متحدہ عرب امارات کو 38 رنز سے ہرا دیا

عدالت کا ریمارکس

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت بھاری جرمانوں کے لیے کی گئی ترامیم کالعدم قرار دے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت نے قانون بنا دیا ہے اس پر عمل کریں، یہاں پر آپ قانون پر عملدرآمد کی بجائے قانون ختم کرانے آگئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: خان کو لیے بغیر ڈی چوک سے نہیں نکلوں گی، بشریٰ بی بی کا خطاب

بچوں کی حفاظت کی اہمیت

چیف جسٹس نے کہا کہ بچوں کی ٹانگیں زمین پر لگتی نہیں اور انہیں موٹر سائیکل لے کر دے دیتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میرے گھر کے بڑوں اور بچوں دونوں کے چالان بھی آئے ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ 5 ہزار کم عمر ڈرائیور ون وے کی خلاف ورزی سے حادثات میں زخمی اور فوت ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی ٹیسٹ: دوسرے دن کے کھیل کا آغاز، پاکستان نے 3 وکٹوں کے نقصان پر 80 رنز بنالیے

جرمانے کی وجوہات

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیئے کہ کم عمر بچے موٹرسائیکل تیز رفتاری سے چلاتے ہیں اور جرمانہ زیادہ اس لیے رکھا گیا کہ لوگ خلاف ورزی نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں ٹریفک کی خلاف ورزی پر بہت زیادہ جرمانے ہوتے ہیں، جیسے دبئی میں ایک لاکھ درہم تک جرمانے ہوتے ہیں۔ ہمارے بچوں کی سیفٹی بہت ضروری ہے لہٰذا ہمیں قانون پر عمل کرنے والا بننا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: میڈیا انڈسٹری میں کام کرنے والی خواتین کو ’دستیاب‘ سمجھا جاتا ہے، میزبان عائشہ جہانزیب

حکومتی اقدامات

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ حکومت نے کہہ دیا ہے پہلی خلاف ورزی پر جرمانہ ہوگا اور دوسری خلاف ورزی پر قانونی کارروائی ہوگی۔ عدالت نے کہا کہ قانون سوسائٹی کو بہتر کرنے کے لیے بنتے ہیں تاکہ شہریوں کو ذمہ دار بنایا جا سکے اور والدین بھی ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کرتے ہیں۔

نتیجہ

بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کردی۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...