چیف آف ڈیفنس فورسز کا معاملہ پراسیس میں ہے اور کسی بھی وقت آسکتا ہے ،وفاقی وزیرقانون
اسلام آباد میں وفاقی وزیرقانون کی پریس کانفرنس
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کا معاملہ پراسیس میں ہے اور کسی بھی وقت آسکتا ہے۔ وزیراعظم ملک میں نہیں تھے، اس لیے اب تک نوٹیفیکیشن نہیں آیا۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں مختلف انفیکشنز کے مزید 5 ہزار 111 نئے کیس رپورٹ
نوٹیفیکیشن کی تاخیر کی وجوہات
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم ملک میں نہیں تھے، جس کے نتیجے میں چیف آف ڈیفنس فورسز کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہو سکا۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ "چائے کی پیالی میں طوفان کھڑا کیا گیا ہے، وہ چائے جلد ٹھنڈی ہو جائے گی۔"
یہ بھی پڑھیں: بجٹ 2025-26، سپر ٹیکس میں کتنی کمی کی تجویز ہے؟ بجٹ دستاویز سامنے آ گئیں
قانونی وضاحتیں
انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ پراسیس میں ہے اور کسی بھی وقت آسکتا ہے۔ آرٹیکل 243 میں کوئی ابہام نہیں ہے، نہ ہی آرمی، نیوی یا ائیر فورس کے قوانین میں کسی ابہام کا سامنا ہے۔ قانون میں واضح کیا گیا کہ وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر مملکت عمل کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: بدھا کے نایاب مجسموں کی سمگلنگ کی ناکام کوشش
ترمیمات اور معیاد کی وضاحت
وزیر قانون نے یہ بھی بتایا کہ 2024 میں ہونے والی ترامیم کے بعد، عہدے کی معیاد تین سے بڑھا کر 5 سال کر دی گئی تھی۔ اس کے ساتھ یہ گنجائش رکھی گئی تھی کہ دوبارہ تعیناتی کے ساتھ ایکسٹنشن ایک ساتھ یا ایک ایک سال کی دی جا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کو پی ٹی آئی کی احتجاجی تحریک کا کوئی خوف نہیں، سینیٹر عرفان صدیقی
مستقبل کی توقعات
انہوں نے مزید کہا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کی بیک وقت تعیناتی ہونی ہے۔ کل بھی کچھ ہدایات وزارت دفاع سے شیئر ہوئی ہیں اور اس پر کام جاری ہے۔ جلد ہی نوٹیفکیشن متوقع ہے، اور اس حوالے سے قیاس آرائیاں بند ہونی چاہئیں۔ اس معاملے میں کوئی سیاسی مسئلہ نہیں ہے۔
نوٹیفکیشن کی نوعیت
وزیر قانون نے وضاحت کی کہ نئی سکیم آف لا میں 'کنکرنٹلی' کا لفظ استعمال ہوا ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ الگ نہیں ہوگا۔ چیف آف ڈیفنس فورسز کے ساتھ آرمی چیف کا ایک ہی نوٹیفکیشن ہوگا۔








