بھارتی ویب سائٹ نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد کی صورتحال پر تہلکہ خیز انکشاف کر دیا
شمالی بھارت میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال
نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی ویب سائیٹ نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد کی صورتحال پر تہلکہ خیز انکشاف کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: No Tolerance for Those Who Resort to Violence: Maryam Nawaz
کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے اثرات
بھارتی میڈیا کے مطابق کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد مقبوضہ وادی کی صورتحال ابتر ہو چکی ہے۔ 2019ء میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہونے کے بعد سیاسی، سماجی اور جمہوری صورتحال نے بگاڑ لیا ہے۔ حکومت پر بیوروکریسی کا کنٹرول ہے، رائے کے اظہار کو مجرمانہ فعل قرار دیا جاتا ہے، اور عوامی کردار محدود کیا گیا ہے۔ کشمیریوں کے خلاف کارروائیاں عام بات بن چکی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت کے اداروں کی رائٹ سائزنگ، فیصلوں پر عملدرآمدشروع
اجتماعی سزائیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں
بھارتی نیوز ویب سائٹ "دی وائر" کی رپورٹ کے مطابق، کشمیریوں کو اجتماعی سزائیں دی جا رہی ہیں، اور انہیں ایسے جرائم کے لیے بھی شک کی نگاہوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جن کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کشمیر میں امن کا حصول مشکل ہے، مگر موت اور مایوسی یقینی ہو چکی ہے۔
سماجی و سیاسی اصلاحات کی ضرورت
رپورٹ میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں اجتماعی سزاؤں کا سلسلہ بند کیا جائے۔ نوجوانوں اور متبادل سیاسی آوازوں کو موقع فراہم کیا جائے، اجتماعی سزا کے طور پر گھروں کو مسمار کرنے جیسی پالیسیاں ختم کی جائیں، سماجی اور سیاسی ڈائیلاگ کے نئے چینلز قائم کیے جائیں، اور بے گناہ افراد پر پابندیاں یا سزائیں ختم کی جائیں۔








