حکومت نے ایک بار پھر پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیشکش کر دی
مذاکرات کی پیشکش
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) حکومت نے پارلیمنٹ کے فورم پر ایک بار پھر پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیشکش کر دی۔ وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ کہتے ہیں کہ مذاکرات کا آپشن اب بھی موجود ہے، آئیں بیٹھ کر بات کریں۔ جن سے بانی پی ٹی آئی بات کرنا چاہتے ہیں، وہ ان سے بات نہیں کرنا چاہتے۔
یہ بھی پڑھیں: ماں کی دعا سے کوئی حادثہ نہ ہوا، ابن العربی کہتے ہیں ”ہمیں پتہ ہی نہیں ہوتا اور ہمارا اللہ ہمیں کس کس مقام پر گرنے سے پہلے ہی تھام لیتا ہے“
پی ٹی آئی سینیٹر کا بیان
ایکسپریس نیوز کے مطابق سینیٹ اجلاس میں پی ٹی آئی سینیٹر مشعال یوسفزئی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کروائی جا رہی، میں کہتی ہوں رانا ثناء کی سربراہی میں پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے۔ ملکی و بین الاقوامی میڈیا کو ساتھ لے کر جائیں اور بانی پی ٹی آئی کی صحت اور ان کو دی گئی سہولیات سے متعلق ہمیں آگاہ کرے۔
یہ بھی پڑھیں: معاون خصوصی برائے سپیشل ایجوکیشن ثانیہ عاشق کا دورہ ملتان ،ڈپٹی ڈائریکٹر سپیشل ایجوکیشن اور ڈی او کی انکوائری کا حکم
رانا ثناء اللہ کا جواب
اس کا جواب دیتے ہوئے سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ جمہوریت ڈائیلاگ سے آگے بڑھتی ہے، ڈیڈلاک سے نہیں۔ وزیراعظم نے دو بار فلور آف دی ہاؤس بات چیت کے لیے بیٹھنے کا کہا، یہاں تک کہا کہ اسپیکر کے چیمبر میں بیٹھ جائیں، میں وہاں آجاتا ہوں۔ آن ریکارڈ ہے کہ پی ٹی آئی ہم سے بات کرنے کو تیار نہیں، جن سے بات کرنے کی خواہشمند ہے وہ راضی نہیں۔
قیدی سے ملاقات کے امور
قیدی سے ملاقات سے متعلق کچھ امور پہلے سے طے ہونے چاہئیں، بانی سے ملاقات کے بعد جو گفتگو کی گئی، وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ کسی قیدی کو ریاست کے خلاف تحریک چلانے کے لیے ملاقاتوں کی اجازت نہیں دے سکتے۔








