عام لوگ حقیقت نہیں جانتے، ڈکی اور عروب ایسی ذہنی حالت میں نہیں ہیں کہ لوگوں سے مل سکیں، اقرا کنول
ڈکی بھائی کی رہائی اور ذہنی حالت
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) جوا ایپ کیس میں حال ہی میں رہائی پانے والے ڈکی بھائی کے خاندانی دوست اور بزنس پارٹنر اقرا کنول اور اریب پرویز نے پہلی بار یوٹیوبر کی ذہنی اور نفسیاتی کیفیت پر بات کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دوسرا ٹیسٹ: پاکستان کا جنوبی افریقا کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ
ذہنی حالت کا بیان
ایکسپریس نیوز کے مطابق انھوں نے بتایا کہ ’’عام لوگ حقیقت نہیں جانتے۔ ہم نے ڈکی اور عروب دونوں سے بات کی ہے۔ وہ اس وقت ایسی ذہنی حالت میں نہیں ہیں کہ لوگوں سے مل سکیں۔ انھیں وقت چاہیے۔ کسی معصوم انسان کےلیے اتنے دن جیل میں گزار کر نارمل واپس آنا آسان نہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھیں: سینٹرل جیل گوجرانوالہ میں واٹر فلٹریشن پلانٹ کا افتتاح، 4500 اسیران مستفید ہوں گے
آزمائش اور صدمہ
اقرا اور اریب کا کہنا تھا کہ پوری آزمائش صرف ڈکی نے برداشت کی۔ ’’ہم کچھ بھی کہیں، ’ہم نے کیا‘ یا ’ہم نے کوشش کی‘... یہ بے فائدہ ہے، کیونکہ جیل کے سخت ترین لمحات صرف ڈکی نے جھیلے۔ ہم تصور بھی نہیں کرسکتے کہ اس نے کیا صدمہ اٹھایا۔‘‘
یہ بھی پڑھیں: ابوزر حادثے سے قبل سنیپ چیٹ پر ویڈیو بنا رہا تھا، تفتیش میں انکشاف
تنہائی اور سکون کی ضرورت
ان کے مطابق عروب جتوئی بھی یہی چاہتی ہیں۔ ’’ڈکی کچھ وقت صرف اپنے گھر والوں کے ساتھ گزارنا چاہتے ہیں، وہ کسی سے ملنے کے موڈ میں نہیں۔ جب وہ بہتر ہوجائیں گے، تب سب بیٹھ کر بات کریں گے۔ ابھی انھیں تنہائی، سکون اور وقت چاہیے۔‘‘
مداحوں کا ردعمل
ڈکی بھائی کے مداحوں کی بڑی تعداد نے سوشل میڈیا پر تشویش اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ کئی صارفین نے لکھا کہ تازہ معلومات سے اندازہ ہوتا ہے کہ جیل نے ان پر کتنا گہرا اثر چھوڑا۔ مداحوں نے ڈکی اور عروب دونوں کے لیے صحت اور سکون کی دعائیں بھی کیں۔








