پارلیمانی محاذ پر پی ٹی آئی کی جارحانہ حکمت عملی روکنے کیلئے بڑا فیصلہ
بڑا فیصلہ: پی ٹی آئی کی حکمت عملی کی روک تھام
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پارلیمانی محاذ پر پی ٹی آئی کی غیر سیاسی اور جارحانہ حکمت عملی روکنے کے لیے بڑا فیصلہ کر لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: میں ایسا ہی تھا۔کھرا، سچا اور کچھ اکھڑ، کچھ بیوقوف،لفافہ دینے کی کوشش میں خوب بے عزتی کرائی”تمھیں کوئی غلط فہمی ہے کہ یہ سب کچھ پیسے کیلئے تھا“
رکنیت معطلی کے اقدامات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق اگر کسی رکن نے ریاستی اداروں کے خلاف تقاریر کی، ڈائس کا گھیراؤ کیا، گالم گلوچ کی یا بانی پی ٹی آئی کی تصاویر ایوان پر لائے تو اس کی رکنیت معطل ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن فیصلے کیخلاف نظرثانی درخواست؛حامد خان نے لارجر بنچ کی استدعا کردی
رولنگ پر عملدرآمد کی ہدایت
قائم مقام چیئرمین سینیٹ سیدال خان ایوان میں دی گئی رولنگ پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے پیر یا منگل کو پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر کو خط لکھیں گے۔ اس خط میں سیدال خان پی ٹی آئی کو رولنگ پر عملدرآمد کی ہدایت دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان مشن اقوام متحدہ نیویارک سے 2 سفارتی افسروں کا تبادلہ
غیرجمہوری طرز عمل کی تنبیہ
پی ٹی آئی کو غیرجمہوری اور غیر قانونی طرز عمل پر ممکنہ کارروائی کے حوالے سے خبردار کیا جائے گا، اور انہیں ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ بننے سے اجتناب کی ہدایت کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: انتشار کی سیاست چھوڑ کر ملکی مفاد میں کام کرنا چاہیے: گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان
قائم مقام چیئرمین کا موقف
قائم مقام چیئرمین سینیٹ سیدال خان کا نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ریاست اور اداروں کے خلاف پی ٹی آئی کا شرمناک رویہ ناقابل برداشت ہے۔ میری رولنگ سیاسی نہیں بلکہ آئین و قانون کا واضح تقاضا تھی۔
آئندہ کی کارروائی اور سختی
انہوں نے مزید کہا کہ اداروں پر حملہ، تنازع اور انتشار پھیلانے کی اجازت کسی کو نہیں ہوگی، رولنگ پر سختی سے عملدرآمد ہوگا۔ کوئی رعایت نہیں ہوگی، اور آئندہ خلاف ورزی پر سینیٹرز کی رکنیت معطل ہو سکتی ہے۔ مسلسل خلاف ورزی کی صورت میں رکنیت طویل مدت کے لیے بھی معطل ہو سکتی ہے۔








