ہم لوگ عظمتوں کے امین تھے۔۔۔
عظمتوں کی بات
عظمتوں کے امین تھے ہم لوگ
رفعتوں پر مکین تھے ہم لوگ
ہم نے ساحل پر کشتیاں پھونکیں
اس قدر پر یقین تھے ہم لوگ
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی فلم اسٹار میرا سیڑھیوں سے گر کر زخمی
آسمان کی بلندی
آسماں پر نظر ہماری تھی
گرچہ اہلِ زمین تھے ہم لوگ
کائناتیں ہماری ہاتھ میں تھیں
کیسے حجرہ نشین تھے ہم لوگ
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس، اعلامیہ جاری
محبت اور خدمت
ہم سے ہٹتی نہ تھی نظر سب کی
ایسا نقشِ حسین تھے ہم لوگ
ہم نے ہر سو محبتیں بانٹیں
سب دلوں میں مکین تھے ہم لوگ
ہم نے انسانیت کی خدمت کی
ہر کسی کے معین تھے ہم لوگ
یہ بھی پڑھیں: ایک طرف اشرافیہ کے لیے اربوں روپے کی مراعات، پروٹوکول اور شاہانہ طرزِ زندگی برقرار ہے جبکہ دوسری طرف مہنگائی کا سارا بوجھ غریب عوام پر ڈال دیا گیا ہے، سراج الحق
روشنی کی کرن
ہم سے تاریکیاں بھی خائف تھیں
ایسے روشن جبین تھے ہم لوگ
ہم نے دنیا کو علم سکھلایا
کیا ذہین و فطین تھے ہم لوگ
یہ بھی پڑھیں: 1971ء کی جنگ میں دشمن کو دھول چٹانے والے میجر شبیر شریف کا 54 واں یوم شہادت، فیلڈ مارشل عاصم منیر کا خراج عقیدت
محبتوں کا جہان
اِک جہان تھا ہمارا گرویدہ
سنبل و یاسمین تھے ہم لوگ
سب ہماری مثال دیتے تھے
اس قدر بہترین تھے ہم لوگ
یہ بھی پڑھیں: غریب آدمی کہیں بھی ہو گا، مریم نواز اُس کے ساتھ کھڑی ہے، عظمیٰ بخاری
تاریخی لمحے
اب تو انگارے ہیں زبانوں پر
شہد تھے انگبین تھے ہم لوگ
ایک ہیبت تھی کفر کے دل پر
اس قدر آتشین تھے ہم لوگ
نظروں کا اثر
جانے کس کی نظر لگی سرور
رشک صد آفرین تھے ہم لوگ
کلام: ڈاکٹر سرور حسین نقشبندی








