زمین زرخیز ہونے کا وقت تھا، اضافی چارج سے جان چھوٹ گئی،محکمے میں وقت پر ترقی کا رواج نہ تھا، افسران صرف اپنی ذات کی حد تک ہی سوچتے تھے
مصنف کی تفصیلات
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 372
یہ بھی پڑھیں: تین سال سے معیشت کی بہتری کا جھوٹ بولا جا رہا ہے، سلمان اکرم راجہ
خشک مزاج کے ساتھ آغاز
ناصر جامی کی آمد کے چند ہفتوں بعد، ان کے دوست تقی قریشی بطور ڈائریکٹر ایڈمن تعینات ہوئے۔ تقی بھی ناصر کی طرح خشک مزاج، کم گو مگر باصلاحیت افسر تھے۔ ان کا تعلق ملتان کے پیر اور بڑے زمینداروں سے تھا، جبکہ ان کی بیگم سارہ اسلم سی ایس پی اور بعد میں ہماری سپیشل سیکرٹری بھی رہ چکی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر شہنشاہ فیصل عظیم ڈائریکٹر جنرل سوشل ویلفیئر و بیت المال پنجاب تعینات
کارکردگی کے معیار
تقی قریشی آنے کے بعد افسران کی ترقی کی جانب توجہ دی۔ ہمارے محکمے میں ترقی کے نظام کا فقدان تھا، افسران صرف اپنی ذات کے بارے میں سوچتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ فیلڈ میں مایوسی اور بددلی کا دور دورہ تھا۔ افسران اپنی سالانہ اے سی آر بھی نہیں لکھواتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ عالمی مارچ: ہزاروں افراد کا غزہ پر اسرائیلی محاصرہ توڑنے کیلئے مارچ کا فیصلہ، پہلا قافلا روانہ
پہلی بوند کا ٹپکا کرنا
ان مایوس کن حالات میں، میں نے پانی کی پہلی بوند ٹپکانے کی کوشش کی۔ پہلے مرحلے میں اسسٹنٹ انجینئرز کی گریڈ 17 سے گریڈ 18 میں ترقی کا منصوبہ بنایا گیا۔ کئی ہفتے افسران کی اے سی آرز جمع کرنے میں گزر گئے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائی کورٹ کے مستقل ہونے والے تین ججز نے حلف اٹھا لیا
پروموشن کی کارروائی
پروموشن کمیٹی کی پہلی میٹنگ کے دوران، خواجہ محمد نعیم، سیکرٹری بلدیات، نے ڈپٹی سیکرٹری عاشق حسین کی منفی سوچ کا سامنا کیا جو اعتراض کرتے رہے۔ سیکرٹری بلدیات نے ان سے پوچھا، "پروموٹ کرنے کی اتھارٹی کون ہے؟" جس پر انہوں نے جواب دیا، "سر! آپ۔" سیکرٹری نے کہا، "میں نے محکمہ بھی چلانا ہے، گریڈ 18 کے انجینئرز کے بغیر کام کا ہرج ہو رہا ہے۔" اس کے بعد انہوں نے ایک افسر کی ترقی کی اجازت دی۔
تقریبی حالات
پروموٹ ہونا چاہیے تھا جو رہ گیا، اور جس کا کوئی امکان نہ تھا، وہ ترقی پا گیا۔ پانچ منٹ میں پروموشن بورڈ کا اجلاس ختم ہوا۔
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








