بھارت میں چانکیہ نے سیاست میں عیاری، مکاری اور وعدہ خلافی کو جائز قرار دیا تھا، یہ وہ ہتھیار ہیں جو آج دنیا بھر میں استعمال کیے جا رہے ہیں

مصنف: رانا امیر احمد خاں

قسط: 240

ان خرابیوں کے باوجود میڈیا کی وجہ سے عوامی بیداری کی ایک زبردست لہر پیدا ہو رہی ہے۔ بڑے لوگوں کی کرپشن اور جھوٹ کو بے نقاب کیا جا رہا ہے اور مالی بدعنوانیوں کا پردہ چاک ہو رہا ہے جس کی وجہ سے حب الوطنی کو فروغ مل رہا ہے۔ ظفر علی راجا نے بھارتی صحافیوں کو خاتون صحافی ارون دھتی رائے کا ایک انٹرویو یاد دلایا جس میں انہوں نے اس تاثر کو اجاگر کیا تھا کہ حب الوطنی کا دائرہ وسیع کرتے کرتے بھارتی میڈیا پاکستان مخالف بلکہ پاکستان سے جنگ تک کے جذبات ابھارنے لگتا ہے۔ میڈیا نے بمبئی حملے سے متعلق پروگرام نشر کرتے ہوئے پاکستان پر حملے کے جنون کو ایلیٹ اور مڈل کلاس تک پھیلا دیا تھا۔ یہ نہایت غیر ذمہ دارانہ رویہ تھا۔

صحافیوں کا طرز زندگی

ارشاد چوہدری کے ایک سوال کے جواب میں ایس پی الہٰ آبادی نے بتایا کہ صحافیوں کے لیے کلب میں کھانا اور شراب دونوں چیزیں بازار کی نسبت ارزاں ملتی ہیں۔ ایس پی الہٰ آبادی نے ہمارے ساتھ اٹھتے ہوئے کہا کہ آئیے آپ کو شراب کی بار دکھاؤں۔ بڑے ہال کے بغلی دروازے کے بعد تقریباً اتنا ہی بڑا ہال پریس کلب کی بار کے لیے مخصوص تھا۔ دیوار کے ساتھ ایک کاؤنٹر بنا ہوا تھا اور دیوار کے ساتھ الماری میں بھانت بھانت کی شرابیں بوتلوں میں سربند سجی ہوئی تھیں۔ آٹھ دس صحافی ایک کونے میں بیٹھے جام و مینا سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔

پاکستانی سفارت خانے کی دعوت

پریس کلب آف انڈیا کی عمارت سے باہر نکلے تو شرما جی کی تجویز پر بذریعہ فون خواتین ارکانِ وفد کو ہدایت کی گئی کہ وہ چاندنی چوک مارکیٹ سے فوری رکشہ لیکر اندرا گاندھی میموریل کے قریب تین مورتی بس سٹاپ پہنچ جائیں تاکہ وہاں سے اکٹھے ہو کر پاکستانی سفارت خانے بروقت پہنچا جائے۔ ہم تین مورتی پہنچ کر ابھی گاڑی سے نیچے اتر رہے تھے کہ ہمارے وفد کی تینوں دیویاں، ایک رکشے سے اترتے ہوئے دکھائی دیں۔ چند لمحوں بعد آفتاب میاں ویگن سمیت ہمارے سامنے تھے۔ ہم لوگ ویگن پر سوار ہوئے۔ آفتاب میاں نے بتایا کہ پاکستانی سفارت خانہ یہاں سے بالکل قریب ہے۔ یہاں بہت سے دوسرے ممالک کے سفارت خانے بھی ہیں۔ اس آبادی کو چانکیہ پوری کہتے ہیں۔ چانکیہ ہندو تاریخ کا کردار وہ پہلا شخص تھا جس نے اقتدار میں رہنے کے سیاسی اصول وضع کیے تھے۔ ان اصولوں میں عیاری، مکاری اور وعدہ خلافی کو بھی جائز قرار دیا تھا۔ یہ وہ ہتھیار ہیں جو آج کی دنیا میں سیاست کے ساتھ ساتھ سفارت کاری میں بھی کامیابی سے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

سفارت خانوں کی بستی

ایک بڑے چوک سے مڑتے ہوئے آفتاب میاں نے بتایا کہ اب ہم سفارت خانوں کی بستی چانکیہ پوری میں داخل ہو چکے ہیں۔ یہاں سڑک کے دونوں طرف سبز کیاریوں کی دو رویہ قطار ایک خوبصورت منظر پیش کرتی ہوئی آگے بڑھتی ہے۔ اس سڑک کو شانتی پاتھ کا نام دیا گیا ہے۔ شانتی پاتھ پر آسٹریلیا کے بعد پاکستان کا سفارت خانہ ہے۔ ہم لوگ کار پارکنگ میں اپنی ویگن سے اتر کر سفارت خانے کی عمارت کی طرف بڑھے تو صدر دروازے پر پاکستان کے سفارتی افسران اپنے ہم وطنی وفد کے ارکان کے استقبال کی خاطر موجود تھے۔ سلام، دعا، خوش آمدید اور مصافحہ کے بعد ہم لوگ ایک کوریڈور سے گزر کر دائیں ہاتھ کے ایک ہال نما ملاقاتی کمرے میں داخل ہوئے۔

(جاری ہے)

نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...