چین کے J-15 طیاروں کے جاپانی فائٹرز کو لاک کرنے پر تنازعہ
چین اور جاپان کے درمیان کشیدگی
بیجنگ (ڈیلی پاکستان آن لائن) چین اور جاپان کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، کیونکہ دونوں ممالک نے لڑاکا طیاروں کی حالیہ فضائی جھڑپ کے حوالے سے ایک دوسرے کے خلاف متضاد دعوے کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: یو اے ای میں پاکستانی ویزوں پر مکمل پابندی نہیں، ترجمان دفتر خارجہ
جاپانی وزیرِ اعظم کی سخت بیان
انادولو ایجنسی کے مطابق اتوار کو جاپانی وزیرِاعظم فومیو تاکائیچی نے سخت بیان دیتے ہوئے چین سے مطالبہ کیا کہ وہ جاپانی طیاروں پر ’’ریڈار لاک‘‘ کرنے جیسے اقدامات کا اعادہ نہ کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی حرکتیں خطے میں خطرناک صورتِ حال پیدا کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا قومی اسمبلی میں 27 ویں آئینی ترمیم کے عمل کا حصہ نہ بننے کا اعلان
چین کا الزام
اس سے قبل جاپان نے الزام لگایا تھا کہ چینی لڑاکا طیاروں نے ہفتے کے روز اوکیناوا کے جنوب مشرقی بین الاقوامی فضائی حدود میں جاپانی F5 طیاروں پر فائر کنٹرول ریڈار لاک کیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے وزیرِ خارجہ سے اب تک کوئی بات نہیں ہو رہی، عطا اللہ تارڑ
جاپان کا ردعمل
جاپانی وزیرِ دفاع شنجیرو کوئزومی کے مطابق چین کے J5 طیارے، جو ایئرکرافٹ کیریئر لیاﺅننگ سے اُڑے تھے، دو علیحدہ واقعات میں ’’وقفے وقفے سے‘‘ جاپانی طیاروں پر ریڈار لاک کرتے رہے۔ جاپان نے اسے ’’انتہائی خطرناک اقدام‘‘ قرار دیتے ہوئے چین سے شدید احتجاج کیا، تاہم کسی طیارے یا اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ حکومت نے عام تعطیل کا اعلان کردیا
چین کا مؤقف
دوسری جانب چین نے جاپانی مؤقف کو یکسر مسترد کرتے ہوئے الٹا جاپان پر ’’ہراسانی‘‘ کا الزام لگا دیا۔ چینی بحریہ کے ترجمان وانگ شوئیمِنگ نے کہا کہ لیاﺅننگ کیریئر گروپ مشرقِ میاکو آبنائے کے علاقے میں معمول کی پروازوں اور تربیتی مشقوں میں مصروف تھا، لیکن جاپانی طیارے بار بار قریب آ کر ’’غیر ضروری مداخلت‘‘ کرتے رہے۔
فلائٹ سیفٹی پر خطرات
ان کے مطابق جاپان کی یہ حرکات چین کی معمول کی تربیتی سرگرمیوں میں رکاوٹ اور فلائٹ سیفٹی کے لیے شدید خطرہ تھیں۔ ترجمان نے جاپان سے ’’بدنامی کی مہم‘‘ بند کرنے، فرنٹ لائن سرگرمیوں کو کنٹرول کرنے اور چین کی سلامتی کے خلاف اقدامات سے باز رہنے کا مطالبہ کیا۔








