جب سوچ آزاد ہو جائے تو قومیں خود بخود آگے بڑھنے لگتی ہیں، قومیں صرف وسائل سے نہیں، فکر سے بنتی ہیں۔
تحریر
رانا بلال یوسف
یہ بھی پڑھیں: پنجاب: انسدادِ تمباکو نوشی آرڈیننس 2002 پر سختی سے عملدرآمد کا فیصلہ
پاکستان کی معاشی گفتگو
پاکستان کی معاشی گفتگو ہمیشہ ڈالر کی قیمت، مہنگی توانائی اور سرکاری خسارے کے آس پاس گھومتی رہتی ہے۔ جیسے ہماری پسماندگی کی اصل وجہ یہی چند معاشی اتار چڑھاؤ ہوں۔ میڈیا کی ہیڈلائنز اور حکومتی بیانات بھی انہی اعداد و شمار تک محدود رہتے ہیں، جس سے اصل بیماری کی شناخت ہی نہیں ہو پاتی۔ مگر جدید معاشی تحقیق جسے رواں سال نوبل انعام نے بھی تسلیم کیا بتاتی ہے کہ قومیں تب ترقی کرتی ہیں جب ان کے اندر نئے آئیڈیاز پھلتے پھولتے ہیں اور علم آزادانہ پھیلتا ہے۔ شاید ہمارا مسئلہ معاشی بحران نہیں، سوچ کی کمی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تیسرا ٹی20؛ اہم میچ سے قبل بنگلادیش کو بڑا دھچکا
معاشی جمود کی وجوہات
ہم نے ہمیشہ اپنی معاشی کمزوری کو بیرونی عوامل میں تلاش کیا ہے۔ کبھی عالمی منڈیوں میں، کبھی درآمدی اخراجات میں، کبھی مالیاتی عدمِ توازن میں۔ مگر ہمارے معاشی جمود کی اصل جڑ اندر ہے۔ ہم نہ ٹیکنالوجی اپناتے ہیں، نہ علم تخلیق کرتے ہیں، نہ تحقیق پر سرمایہ لگاتے ہیں۔ ہماری صنعتیں نئی سوچ کو خطرہ سمجھتی ہیں اور پرانے طریقوں سے چمٹی رہتی ہیں۔ عالمی بینک کے Enterprise Survey 2023 کے مطابق پاکستان کی 74 فیصد فیکٹریوں نے گزشتہ 10 سال میں کوئی بنیادی تکنیکی تبدیلی نہیں کی۔ جب بنیاد ہی کمزور ہو، تو بحران چاہے بدل جائیں، نتیجہ نہیں بدلتا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور افغانستان کے درمیان فائنل میچ کا ٹاس ہو گیا
جدت اور کارکردگی
گزشتہ برسوں میں ہونے والی تحقیق واضح ثبوت فراہم کرتی ہے کہ جدت اور بہتر انتظام کسی بھی کمپنی کی پیداواریت میں نمایاں اضافہ کرتے ہیں۔ لاہور سکول آف اکنامکس اور LSE Productivity Paradox Report 2022 دونوں یہ دکھاتی ہیں کہ جو کمپنیاں نئی ٹیکنالوجی اپناتی ہیں اور مینجمنٹ کو بہتر کرتی ہیں، وہ نہ صرف زیادہ منافع کماتی ہیں بلکہ عالمی منڈیوں تک رسائی بھی حاصل کرتی ہیں۔ تحقیق کے مطابق جدت اپنانے والی کمپنیوں کی کارکردگی 40 سے 60 فیصد تک بہتر ہوتی ہے۔ اس کے برعکس پرانی تکنیک رکھنے والی صنعتیں وقت کے ساتھ غیر مؤثر ہوتی جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ اور اسرائیل ایرانی حکومت کو ختم کرنا چاہتے ہیں، روس
صنعتوں کی جدت کی قلت
مگر حقیقت یہ ہے کہ ہماری زیادہ تر صنعتیں آج بھی جدت سے کوسوں دور کھڑی ہیں۔ تحقیق و ترقی (R&D) پر سرمایہ کاری تقریباً صفر ہے، مینجمنٹ ٹریننگ کو اضافی خرچ سمجھا جاتا ہے، اور نئی ٹیکنالوجی کو غیر ضروری خطرہ تصور کیا جاتا ہے۔ عالمی معیار یا سرٹیفیکیشن حاصل کرنا معمول نہیں بلکہ استثنیٰ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری صنعتی رفتار نہ صرف عالمی معیار سے پیچھے ہے بلکہ خطے کے ممالک— بھارت، ویتنام اور بنگلادیش سے بھی کمزور ہو چکی ہے۔ جیسا کہ پیٹر ڈرکر کہتے ہیں ’’The greatest danger in turbulence is acting with yesterday’s logic‘‘
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں 100 سے زائد کمسن بچیوں کے ساتھ زیادتی اور ان کی ویڈیوز بنانے والا ملزم گرفتار
مقابلے کی کمی
اقتصادی سست روی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہماری بیشتر صنعتیں حقیقی مقابلے سے محفوظ ہیں۔ برسوں سے چند بڑے گروپس مارکیٹ پر قابض ہیں، اور پالیسیوں کا بڑا حصہ انہی کمپنیوں کے مفاد کے گرد گھومتا ہے۔ درآمدی رکاوٹیں، بلند ٹیرف اور مختلف استثناء ایسی دیواریں بنا دیتے ہیں جن کے باعث پرانی ٹیکنالوجی رکھنے والی کمپنیاں بھی بغیر جدت کے آرام سے چلتی رہتی ہیں۔ تخلیقی تباہی، جسے شوپِیٹر معاشی ترقی کا بنیادی اصول کہتے ہیں، تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ جب مارکیٹ نہیں بدلتی، تو سوچ بھی نہیں بدلتی۔
یہ بھی پڑھیں: اننت امبانی کی شادی پر گھر کی خواتین نے مہندی لگوانے کے کتنے پیسے دیئے؟ ہوشربا انکشاف
عالمی دنیا سے کٹاؤ
ہماری صنعت کا ایک اور بڑا مسئلہ عالمی دنیا سے کٹا ہونا ہے۔ وہ کمپنیاں جو بین الاقوامی سرٹیفیکیشن حاصل کرتی ہیں، بیرونی نیٹ ورکس کا حصہ بنتی ہیں یا ٹیکنالوجی پارٹنرشپ بناتی ہیں، وہ زیادہ مؤثر اور منافع بخش ثابت ہوتی ہیں۔ مگر ہمارے ملک میں ایسی کمپنیوں کی تعداد بہت کم ہے۔ OECD کی Innovation Linkages Report 2024 کے مطابق پاکستان کا عالمی ٹیکنالوجیکل انضمام خطے میں سب سے کم ہے۔ مقامی منڈیوں میں بند رہ کر نہ معیار بدلتا ہے، نہ سوچ پھیلتی ہے، نہ جدت کا دباؤ محسوس ہوتا ہے۔ یہی خلا ہماری برآمدات اور مسابقت دونوں کو کمزور کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز کا پنجابی زبان کو تعلیم، ثقافت اور عوامی زندگی میں مرکزی مقام دلانے کیلئے اقدامات کا حکم
تعلیم اور ٹیکنیکل تربیت
ہمارا سب سے بنیادی مسئلہ تعلیم، ٹیکنیکل تربیت اور نئے علم کی کمزور بنیاد ہے۔ تحقیق و ترقی پر ہمارا خرچ جی ڈی پی کا صرف 0.2 فیصد ہے، جبکہ بھارت، ترکی اور جنوبی کوریا اس سے کئی گنا زیادہ سرمایہ لگاتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ فیکٹریاں پرانی تکنیک پر چلتی ہیں، مینجمنٹ جدت کو خطرہ سمجھتی ہے، اور نئی مہارتوں کی شدید کمی ہے۔ صنعتیں مقابلے کا دباؤ محسوس کرتے ہی پیچھے ہٹ جاتی ہیں کیونکہ ان کے پاس وہ علم اور ٹیلنٹ موجود نہیں جس پر جدت کھڑی ہو سکے۔ جہاں علم کمزور ہو، وہاں معیشت کبھی مضبوط نہیں بنتی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: گلستان جوہر میں آتشزدگی، درجنوں جھونپڑیاں اور متعدد موٹرسائیکلیں جل گئیں
نئے راستے
نوبل انعام یافتہ نظریہ ایک واضح راستہ تجویز کرتا ہے کہ حقیقی مقابلہ بحال کریں، تحقیق و ترقی کو قومی ترجیح بنائیں اور معیشت کو آئیڈیاز کے لیے کھولیں۔ پاکستان کو وہی ماڈل اپنانا ہوگا جس نے چین، ویتنام اور ملائیشیا کو نئی صنعتی رفتار دی یعنی ایسی پالیسی جہاں نئی کمپنیوں کے داخلے پر رکاوٹ نہ ہو، پرانی صنعتیں اپ گریڈیشن پر مجبور ہوں، اور جدید تربیت کو قومی سطح پر اہمیت دی جائے۔ ایسے شعبوں میں سرمایہ کاری ضروری ہے جہاں ایک ادارے کی جدت پوری معیشت کے معیار کو بہتر بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے اسرائیلی فوج کیخلاف حملوں کی 14ویں لہر کی ویڈیو جاری کر دی
علم کی اہمیت
جوئل موکیئر کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ ’’ترقی اُس دن شروع ہوتی ہے جب کوئی معاشرہ علم کو ادارہ بنا لیتا ہے۔‘‘ یعنی علم صرف یونیورسٹیوں تک محدود نہیں رہتا، بلکہ پالیسیوں، صنعتوں اور روزمرہ فیصلوں کی بنیاد بن جاتا ہے۔ کامیاب قومیں ٹیکنالوجی خرید کر نہیں بلکہ آئیڈیاز کی آزادی، سوال کرنے کی ہمت، اور ناکامی کو سیکھنے کا مرحلہ سمجھ کر ترقی کرتی ہیں۔ پاکستان کے لیے اصل سبق یہی ہے کہ جب آئیڈیاز رک جاتے ہیں، معیشت بھی رک جاتی ہے— اور جب سوچ آزاد ہو جائے تو قومیں خود بخود آگے بڑھنے لگتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مسیحی برادری کا ’’پاکستان زندہ باد ‘‘کنونشن، قوم متحد ہو کر درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرے : مقررین
پائیدار ترقی کے لیے معیاری تبدیلی
اگر ہم واقعی پائیدار ترقی چاہتے ہیں تو اسے اپنی معاشی حکمتِ عملی کو نئے سرے سے ترتیب دینا ہوگا۔ دنیا ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں طاقت کا معیار وسائل یا سستی محنت نہیں بلکہ علم، ٹیکنالوجی، ڈیٹا اور جدت ہے۔ ہمیں وہی راستہ اختیار کرنا ہوگا جس نے ترکی، چین اور ویتنام کو نئی صنعتی قوتوں میں بدلا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت اور نجی شعبہ تحقیق میں سرمایہ لگائیں، ٹیکنالوجی اپنانے کو یقینی بنائیں اور جدید ہنر کو تعلیمی نظام و صنعتی تربیت کا حصہ بنائیں۔ اگر ذہنی رویئے نہ بدلے، تو پالیسیاں بھی ناکام رہیں گی۔
آخری خیال
آخری فیصلہ سوچ میں ہوتا ہے، اعداد و شمار میں نہیں۔ ہمارے پاس وسائل بھی ہیں، نوجوان بھی اور مواقع بھی مگر جس چیز کی سب سے زیادہ کمی ہے وہ ذہنی فضاء ہے جہاں نئی بات کو جگہ ملے اور پرانی سوچ اپنی گرفت چھوڑ دے۔ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ ترقی کا سفر طاقت سے نہیں، خیال سے شروع ہوتا ہے۔ سرمایہ سے نہیں، علم سے آگے بڑھتا ہے اور رکاوٹوں سے نہیں، جراتِ فکر سے فتح ہوتا ہے۔ اگر ہم سوچ کے دروازے کھول دیں تو راستے خود روشن ہو جاتے ہیں۔ ورنہ کل کا پاکستان بھی یہی سوال پوچھے گا، ہم آگے کیوں نہیں بڑھے؟
نوٹ: ادارے کا لکھاری کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں







