آئینی حدود میں رہتے ہوئے اپنی جدوجہد آگے بڑھا رہے ہیں اور عدالتوں سے بھی انصاف کی توقع رکھتے ہیں، اسد قیصر
اسد قیصر کا انٹرویو
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کا کہنا ہے ہم آئینی حدود میں رہتے ہوئے اپنی جدوجہد آگے بڑھا رہے ہیں اور عدالتوں سے بھی انصاف کی توقع رکھتے ہیں۔ اگر عوام کو کہیں سے انصاف مل سکتا ہے تو وہ عدالتیں ہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عدنان سمیع کی والدہ کا انتقال، کل پاکستان آمد کی توقع
عدالتوں کی صورت حال
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے بعد عدلیہ کو ایگزیکٹو کے کنٹرول میں دے دیا گیا ہے۔ جب وفاقی آئینی عدالت کے سربراہ کو وزیرِ اعظم نے ہی مقرر کرنا ہو تو وہ ان کے خلاف کیسے فیصلہ دے سکتا ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد وِن سٹن چرچل نے اپنے ماتحتوں سے پوچھا کہ کیا ملک میں لوگوں کو انصاف مل رہا ہے؟ جب انہوں نے ہاں میں جواب دیا تو چرچل نے کہا کہ پھر ہمارا ملک چلے گا اور ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہوگا۔ ہم عدلیہ کے ساتھ کھڑے ہیں، لیکن عدلیہ اور وکلاء برادری کو خود بھی اٹھ کھڑا ہونا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: آپ جس کے باہر آنے کا انتظار کر رہے ہیں، 23 اپریل تک وقت انہیں سپورٹ کر رہا ہے، ماہرِ علمِ نجوم سامعہ خان کی پیشنگوئی
نواز شریف پر تنقید
اسد قیصر نے مزید کہا نواز شریف، جو خود کو جمہوریت کا سب سے بڑا چیمپئن سمجھتے ہیں، چند سال پہلے سڑکوں پر نکل کر "ووٹ کو عزت دو" کا نعرہ لگاتے تھے۔ آج وہ ووٹ کو عزت کہاں ہے؟ عوام سے ووٹ دینے کا بنیادی جمہوری حق چھین لیا گیا ہے۔ میں چیلنج کرتا ہوں کہ ن لیگ اپنے تمام اتحادیوں کو ساتھ ملا کر، نیوٹرل امپائر کی موجودگی میں، پورے ملک سے 10 نشستیں جیت کر دکھا دے۔ الیکشن کمیشن نے ہمارا مینڈیٹ چھین کر ن لیگ کی جھولی میں ڈال دیا ہے، اور جب اس سے بھی بات نہ بنی تو ہمارے سینئر اراکین کو نااہل کر کے انہیں اکثریت دلوائی گئی۔
سماجی میڈیا پر جاری گفتگو
ہم آئینی حدود میں رہتے ہوئے اپنی جدوجہد آگے بڑھا رہے ہیں اور عدالتوں سے بھی انصاف کی توقع رکھتے ہیں۔ اگر عوام کو کہیں سے انصاف مل سکتا ہے تو وہ عدالتیں ہی ہیں۔ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے بعد عدلیہ کو ایگزیکٹو کے کنٹرول میں دے دیا گیا ہے۔ جب وفاقی آئینی عدالت کے سربراہ کو… pic.twitter.com/Vy9Im6MX77
— Asad Qaiser (@AsadQaiserPTI) December 9, 2025








