کراچی کے فلیٹ سے 3 خواتین کی لاشیں ملنے کا معاملہ، متاثرہ فیملی پر ڈیڑھ کروڑ روپے کا قرض ہونے کا انکشاف
تازہ معلومات
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں ایک فلیٹ سے تین خواتین کی لاشیں ملنے کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، اور ابھی تک خواتین کی موت کی وجہ سامنے نہیں آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی قانون و انصاف کا اجلاس، دیت کی رقم دو کلو سونے کے برابر مقرر کرنے کی تجویز
مالی مسائل
پولیس کے مطابق متاثرہ فیملی نے ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد کا قرض لیا ہوا ہے، اور انہوں نے گھر اور ایک گاڑی بھی کرائے پر لی ہوئی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ فیملی کا بیٹا پراپرٹی کے کام میں مصروف ہے اور حال ہی میں اس نے جوس میں نیند کی گولیاں شامل کر لی تھیں جس کی وجہ سے اس کی طبیعت خراب ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: القادر ٹرسٹ کیس: اشتہاری ملزم کی بنی گالہ میں 405 کنال اراضی نیلام
خط کی دریافت
پولیس نے والد کے پاس سے ایک خط بھی دریافت کیا ہے جس کی جانچ کی جا رہی ہے۔ اس وقت والد اور بیٹے کو حراست میں لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک فوج کی کارروائیوں میں کتنے افغان طالبان جنگجو ہلاک ہوئے، کتنی چوکیاں تباہ کی گئیں۔ وزیراعظم کے ترجمان برائے فارن میڈیا نے اہم تفصیلات شیئر کر دیں۔
پوسٹ مارٹم کی رپورٹ
پولیس کے مطابق خواتین کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد موت کی اصل وجہ سامنے آ سکے گی۔ یہ بات بھی سامنے آئی کہ ملنے والی تین لاشوں میں سے ایک خاتون کی لاش دو روز پرانی تھی۔
پہلی تفتیشی معلومات
یاد رہے کہ تین روز قبل کراچی کے گلشن اقبال کے فلیٹ سے ماں، بیٹی اور بہو کی لاشیں ملی تھیں۔ گھر کے سربراہ محمد اقبال نے خود ون فائیو پر فون کر کے اطلاع دی، اور ابتدائی تفتیش میں معاملہ مشکوک پایا گیا۔








