اراضی مالکان کو معاوضے کی ادائیگی روکنے کی استدعا مسترد، سی ڈی اے کا ڈویلپ پلاٹس دینے کا فیصلہ
اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ نے نئے سیکٹرز کے اراضی مالکان کو معاوضوں کی ادائیگی فوری روکنے کی استدعا مسترد کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: چار بیٹوں نے اپنے 90 سالہ والد کے لیے دلہن بیاہ لائے، دلہن کی عمر کتنی ہے؟ سوشل میڈیا پر بحث شروع
سی ڈی اے کا فیصلہ
سی ڈی اے نے نئے سیکٹرز کے اراضی مالکان کو اسی سیکٹر میں ڈویلپ پلاٹس دینے کا فیصلہ کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کا بورڈ اجلاس، خواتین کے تحفظ کے لیے اہم پالیسی فیصلے
عدالت میں جواب
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق، ڈی جی لاء سی ڈی اے نعیم اکبر ڈار نے عامر لطیف گِل ایڈووکیٹ کے ذریعے سی ڈی اے کا تفصیلی جواب عدالت میں جمع کروا دیا۔
یہ بھی پڑھیں: القوز گراؤنڈ دبئی میں گرینڈ ہیلتھ فیسٹیول 2025 کا انعقاد، ڈاکٹر فیصل اکرام کی قیادت میں کام کرنے والی ٹیم کو قونصل جنرل کا خراج تحسین
سماعت کی تفصیلات
جسٹس اعظم خان نے شہری ملک گلزرین کی معاوضوں کی ادائیگی بڑھانے تک ادائیگی روکنے کی درخواست پر سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت جنگ: وزیراعظم نے نقصانات کے جائزے کے لیے کمیشن تشکیل دے دیا
ڈویلپ پلاٹس کی قرعہ اندازی
سی ڈی اے کے جواب میں کہا گیا کہ سیکٹرز D13, E13, F13 کے اراضی مالکان کے لیے جلد ڈویلپ پلاٹس کی قرعہ اندازی کی جائے گی۔ سی ڈی اے سیکٹرز کے اراضی مالکان کو لینڈ شیئرنگ پالیسی کے تحت پلاٹس الاٹ کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور زمبابوے کے خلاف آخری ٹی 20 میچ آج کھیلا جائے گا
معاوضوں کی ادائیگی کا طریقہ کار
سی ڈی اے سیکٹرز کے اراضی مالکان کو سروے کے بعد گھروں کے بدلے بھی معاوضہ فراہم کیا جائے گا۔ سی ڈی اے کو سیکڑوں اراضی مالکان نے لینڈ شیئرنگ پالیسی کے تحت معاوضوں کے لیے درخواستیں دے دی ہیں، اور ابتدائی تصدیق کے بعد ادائیگی شروع کر دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ریئلمی 13+ 5G، کیا حقیقت میں آل راؤنڈر ہے۔۔۔
ماضی کی ادائیگیاں
سی ڈی اے لینڈ شیئرنگ پالیسی کے تحت سیکڑوں اراضی مالکان کو پہلے ہی معاوضوں کی ادائیگی کر چکا ہے۔
عدالت کا اگلا اجلاس
اسلام آباد ہائیکورٹ نئے سیکٹرز کے اراضی مالکان کو معاوضوں کی ادائیگی کیس کی مزید سماعت 12 دسمبر کو کرے گی۔








