اراضی مالکان کو معاوضے کی ادائیگی روکنے کی استدعا مسترد، سی ڈی اے کا ڈویلپ پلاٹس دینے کا فیصلہ
اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ نے نئے سیکٹرز کے اراضی مالکان کو معاوضوں کی ادائیگی فوری روکنے کی استدعا مسترد کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کی پیرول رہائی کی درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری
سی ڈی اے کا فیصلہ
سی ڈی اے نے نئے سیکٹرز کے اراضی مالکان کو اسی سیکٹر میں ڈویلپ پلاٹس دینے کا فیصلہ کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: احتساب عدالت: ترقیاتی منصوبوں میں کرپشن، پرویز الہٰی پر فردِ جرم عائد
عدالت میں جواب
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق، ڈی جی لاء سی ڈی اے نعیم اکبر ڈار نے عامر لطیف گِل ایڈووکیٹ کے ذریعے سی ڈی اے کا تفصیلی جواب عدالت میں جمع کروا دیا۔
یہ بھی پڑھیں: زندگی کا بھروسہ نہیں، ہو سکتا ہے کہ میرے فعال کیریئر کے آخری دس برس ہوں، عامر خان کی دلچسپ گفتگو
سماعت کی تفصیلات
جسٹس اعظم خان نے شہری ملک گلزرین کی معاوضوں کی ادائیگی بڑھانے تک ادائیگی روکنے کی درخواست پر سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: دیوار سے نہ لگایا جائے، ہمیں جینے نہیں دیں گے تو آپ کو بھی جینے نہیں دیں گے، اسد قیصر کا صوابی جلسے میں کارکنوں سے خطاب
ڈویلپ پلاٹس کی قرعہ اندازی
سی ڈی اے کے جواب میں کہا گیا کہ سیکٹرز D13, E13, F13 کے اراضی مالکان کے لیے جلد ڈویلپ پلاٹس کی قرعہ اندازی کی جائے گی۔ سی ڈی اے سیکٹرز کے اراضی مالکان کو لینڈ شیئرنگ پالیسی کے تحت پلاٹس الاٹ کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی والوں کو شروع میں ہی کہہ دیا تھا کہ کسی کے جال میں نہ آئیں، حافظ نعیم الرحمان
معاوضوں کی ادائیگی کا طریقہ کار
سی ڈی اے سیکٹرز کے اراضی مالکان کو سروے کے بعد گھروں کے بدلے بھی معاوضہ فراہم کیا جائے گا۔ سی ڈی اے کو سیکڑوں اراضی مالکان نے لینڈ شیئرنگ پالیسی کے تحت معاوضوں کے لیے درخواستیں دے دی ہیں، اور ابتدائی تصدیق کے بعد ادائیگی شروع کر دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش
ماضی کی ادائیگیاں
سی ڈی اے لینڈ شیئرنگ پالیسی کے تحت سیکڑوں اراضی مالکان کو پہلے ہی معاوضوں کی ادائیگی کر چکا ہے۔
عدالت کا اگلا اجلاس
اسلام آباد ہائیکورٹ نئے سیکٹرز کے اراضی مالکان کو معاوضوں کی ادائیگی کیس کی مزید سماعت 12 دسمبر کو کرے گی۔








