سلیکشن نہ کرنے پر کرکٹرز کا ہیڈ کوچ پر بدترین تشدد، سر پر 20 ٹانکے آگئے
بھارت کی ڈومیسٹک ٹی 20 چیمپئن شپ میں حملہ
نئی دہلی(ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارت کی ڈومیسٹک ٹی 20 کرکٹ چیمپئن شپ سید مشتاق علی ٹرافی میں ہیڈ کوچ کی جانب سے نظر انداز کرنے پر کرکٹرز نے انڈر 19 کے ہیڈ کوچ پر مبینہ طور پر تشدد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا کراچی میں تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ کرنے کا اعلان
ایس وینکٹارمن پر حملہ
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق کرکٹ ایسوسی ایشن آف پانڈیچیری (CAP) کے انڈر 19 ہیڈ کوچ ایس وینکٹارمن پر سید مشتاق علی ٹرافی ٹورنامنٹ کے لیے منتخب نہ کرنے پر مبینہ طور پر تین مقامی کرکٹرز نے 'جان سے مارنے کی نیت سے' حملہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: آئینی بنچ نے قیدیوں کو جیل میں یکساں سہولیات دینے سے متعلق درخواست خارج کردی
واقعہ کی تفصیلات
رپورٹ کے مطابق مبینہ واقعہ 8 دسمبر کی صبح پیش آیا، مبینہ طور پر کوچ کے سر میں چوٹ آئی ہے اور کندھے میں فریکچر ہوا، ان کے سر پر 20 ٹانکے لگے۔
یہ بھی پڑھیں: یمن پر کن گروہوں کا کنٹرول ہے؟ سعودی عرب کے اماراتی مفادات پر حملے کے بعد وہ تمام باتیں جو آپ جاننا چاہتے ہیں
ایف آئی آر اور ملزمان
واقعے کی ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اور ملزم کرکٹرز مبینہ طور پر مفرور ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ فیلوشپ پروگرام کے وفد کا دورہ پاکستان، تحفیف اسلحہ پربریفنگ دی
شکایت اور الزامات
پولیس کے مطابق اپنی شکایت میں وینکٹارمن نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی دسن پانڈیچیری کرکٹرز فورم کے سیکرٹری جی چندرن نے تینوں کرکٹرز کو ان پر حملہ کرنے کے لیے اکسایا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیکس اہداف پر نظرثانی،ایف بی آر کی آئی ایم ایف سے ملاقات کی تردید
واقعہ کا بیان
اپنے بیان میں انہوں نے بتایا 8 دسمبر کو صبح 11 بجے کے قریب میں سی اے پی کمپلیکس کے انڈور نیٹ میں تھا، پانڈیچیری کے سینئر کرکٹرز کارتیکیان، اروند دراج اور سنتوش کمارن آئے اور مجھے گالیاں دینا شروع کر دیں، کہا کہ میں ان کو سید علی مشتاق ٹرافی میں سلیکٹ نہ کرنے کی وجہ ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سپورٹس بورڈ کا انڈر 16 والی بال ٹیم کے لیے 82 لاکھ روپے انعام کا اعلان
تشدد کی وضاحت
ہیڈ کوچ کے مطابق ارونددراج نے مجھے پکڑ لیا، کارتیکیان نے سنتوش کمارن کا بیٹ لیا اور مجھے مارنے کے ارادے سے مجھ پر حملہ کیا، انہوں نے مجھے مارا۔
فورم کے صدر کا ردعمل
دوسری جانب فورم کے صدر سینتھل کمارن نے سیکرٹری جی چندرن پر لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے۔
کمارن نے کہا کہ وینکٹارمن کے پاس اپنے خلاف کئی مقدمات کی دستاویزی تاریخ ہے، وہ اکثر مقامی کرکٹرز کے ساتھ بدتمیزی اور فحش زبان استعمال کرنے کے لیے جانا جاتا ہے، چندرن کے خلاف ان کی ناراضگی کے بھی کافی چرچے ہیں۔








