عجیب کردار تھے، ”اسپغول تے کجھ نہ پھول“ ظاہر کرتے کہ بڑے سادہ اور ایماندار ہیں، ہارورڈ یونیورسٹی سے لی گئی ڈگری بھی ان کا کچھ نہ بگاڑ سکی تھی۔
مصنف کی معلومات
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 375
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی؛ سوتیلے بیٹے نے بیوہ ماں کو کلہاڑی کے وار سے قتل کر دیا
پیدائش اندارج کی شرح
یہ 3 اضلاع وہ تھے جہاں پیدائش اندارج کی شرح انتہائی کم تھی اور خاص طور پر بچیوں کا اندراج تو نہ ہونے کے برابر تھا۔ اس concept اور پراجیکٹ کی منظوری ڈائریکٹر جنرل ناصر جامی پہلے ہی دے چکے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: زرعی ترقیاتی بینک کا قرض داروں سے 9 ارب روپے وصول نہ کرنے کا انکشاف
انتقال اور تبدیلی
لاؤنچ کا وقت آیا تو ناصر جامی کا تبادلہ بطور سپیشل سیکرٹری بلدیات ہو گیا اور ان کی جگہ اسد مانی بطور ڈائریکٹر جنرل بلدیات پنجاب تعینات ہوئے۔ یہ سی ایس پی افسر سرکاری کوٹہ پر دنیا کی مشہور 'ہارورڈ یونیورسٹی' کے ڈگری یافتہ بھی تھے مگر ان کے بارے میں مشہور تھا کہ 'ہارورڈ یونیورسٹی بھی اس کو بہتر نہیں بنا سکی تھی'۔ پہلی ملاقات میں ہی میں نے اس تصور کو درست پایا کہ 'ہارورڈ یونیورسٹی بھی ان کا کچھ نہ بگاڑ سکی تھی'۔ یہ عجیب کردار تھے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی ماڈل کی ’بکنی‘ میں ریمپ واک، نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا
ابتدائی تعلقات
پہلی ملاقات میں کوئی خوشگوار نہ تھی۔ پہلی ملاقات کے بعد تعلقات بگڑتے ہی چلے گئے اور بالآخر تلخ کلامی سے ہوتے انتہائی برے نوٹ پر اختتام پذیر ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: مفتی تقی عثمانی نے ایران کے حق میں بیان جاری کردیا
پراجیکٹ پر بات چیت
پراجیکٹ پر بریفنگ دی تو انہوں نے لیہ کی جگہ سرگودھا کو شامل کرنے کا کہا جو کسی طرح بھی سلیکشن معیار پر پورا نہ اترتا تھا۔ اختلاف کی پہلی وجہ یہ تھی کہ سرگودھا ان کا آبائی ضلع تھا۔ راجن پور سے پراجیکٹ کا آغاز ہونا تھا اور افتتاح ڈی جی نے کرنا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: چینی کی نئی قیمت مقرر، نوٹیفکیشن جاری
انتظامات کی تیاری
میں انتظامات کے لئے ایک دن پہلے راجن پور پہنچا۔ ڈی جی اور ڈاکٹر عصمت نے اگلے روز اکٹھے آنا تھا۔ اے ڈی ایل جی راجن پور یعقوب شیروانی رینکر تھے جن کی پروموشن میرے ہاتھوں ہی ہوئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: شبمن سے بریک اَپ کرنیوالی سارہ کو بالی ووڈ اداکار نے چھوڑ دیا
پیسوں کا معاملہ
جانے سے پہلے انہیں ان کے ضلع کی انتظامی رقم ٹرانسفر کرنے کے لئے سہیل کو بینک بھیجا تو معلوم ہوا کہ 70 ہزار روپے غلطی سے زیادہ دئیے گئے تھے۔ میں نے سہیل کو پیغام بھیجا کہ اضافی رقم بینک میں ہی جمع کرا دے۔
یہ بھی پڑھیں: الیکشن نتائج کو تسلیم کرنے کی بجائے اشرفیہ کو حکمرانی دی گئی، موجودہ حکمران بغیر رعایا کے بادشاہ ہیں: بیرسٹر علی ظفر
کھانے کے اخراجات کی بچت
میں راجن پور پہنچا، شیروانی کے ساتھ مل کر انتظامات مکمل کئے۔ راجن پور کے سب سے اچھے ہوٹل میں پروگرام کے افتتاح کا بندوبست کیا۔ اگلے روز موصوف اور ڈاکٹر عصمت بذریعہ بس رحیم یار خان پہنچے اور وہاں سے انہیں ٹیکسی میں راجن پور لایا گیا۔
اختتامی نوٹ
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








