امریکہ کا ویزا شرائط مزید سخت کرنے کا فیصلہ، درخواست گزاروں کی گزشتہ 5 سال کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی مکمل جانچ کی جائے گی
ٹرمپ انتظامیہ کی نئی ویزا پالیسی
نیویارک (ڈیلی پاکستان آن لائن) ٹرمپ انتظامیہ نے ویزا حاصل کرنے کے خواہش مند افراد کیلئے سخت شرائط متعارف کرانے کا فیصلہ کرلیا ہے، جس کے تحت درخواست گزاروں کی گزشتہ 5 سال کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی مکمل جانچ کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران پر امریکی حملے، جماعت اسلامی نے کل یوم احتجاج منانے کا اعلان کر دیا
فیڈرل رجسٹر میں شائع نوٹس
امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن نے اس فیصلے کا نوٹس فیڈرل رجسٹر میں شائع کردیا ہے، جسے لازمی قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 1 مئی کے مزید 2 کیسز کا فیصلہ، ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، عمر سرفراز چیمہ، میاں محمود الرشید کو 10، 10 سال قید کی سزا سنا دی گئی
درخواست گزاروں کی جانچ
فیصلے کے مطابق امریکی سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز یہ جانچ کرے گی کہ آیا درخواست دہندگان نے گزشتہ برسوں میں امریکا مخالف، یہود مخالف یا دہشت گردی سے متعلق کوئی مواد شیئر یا ترویج تو نہیں کی۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اس پالیسی پر عمل درآمد کب سے شروع ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: سیاسی قیادت کو بالغ نظری کے ساتھ قومی ڈائیلاگ کا راستہ اختیار کرنا چاہیے: لیاقت بلوچ
عوامی رائے کی طلب
امریکی عوام کو 60 روز کے اندر اس نئے اقدام پر اپنی رائے دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شیر افضل مروت ن لیگی سینیٹر افنان اللہ پر تشدد کیس سے بری
نئی معلومات کا مطالبہ
رپورٹس کے مطابق امریکا میں داخلے کے خواہش مند افراد سے اہل خانہ کے ای میل ایڈریس، فون نمبر اور دیگر ذاتی معلومات بھی طلب کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی قیادت اپنی ساکھ بحال کرنے کیلئے کچھ نہ کچھ کرے گی، خواجہ آصف
سوشل میڈیا کی نگرانی
اس سے قبل محکمہ خارجہ نے سیاحوں کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنی سوشل میڈیا پوسٹس کو ’پبلک‘ کریں، جبکہ اگست میں ٹرمپ انتظامیہ نے کہا تھا کہ وہ ویزا اور گرین کارڈ کیلئے درخواست دینے والوں کی سوشل میڈیا تاریخ کی جانچ کرنا چاہتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فی الحال کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، سہیل وڑائچ
وزیٹرز پر اثرات
ماہرین کے مطابق اس اقدام کے بعد طلبہ، سیاحوں اور دیگر وزیٹرز کی امریکا مخالف سوشل میڈیا سرگرمیاں ویزا مسترد ہونے کا سبب بن سکتی ہیں، جبکہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ حکام اب سیاسی یا نظریاتی اختلاف کی بنیاد پر بھی ویزا مسترد کرسکیں گے۔
نئے ممالک کا اندراج
ٹرمپ انتظامیہ پہلے ہی 19 ممالک کے شہریوں کیلئے امریکا کے دروازے بند کرچکی ہے اور اس دائرے کو 30 ممالک تک بڑھانے پر غور کیا جارہا ہے۔ حیران کن طور پر یہ نیا اقدام برطانیہ اور جرمنی جیسے ممالک پر بھی نافذ ہوگا، جنہیں اب تک ویزا چھوٹ حاصل تھی۔








