فیض حمید کو 14 سال قید بامشقت کی سزا سنا دی گئی
سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کی سزا
راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کو 14 سال قید بامشقت کی سزا سنا دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ہمارا باورچی مزارعہ کا ان پڑھ بیٹا تھا، ڈانٹ سے تنگ آکر ایک دن پوچھا، صاحب جی، یہ IDIOT کیا ہوتا ہے؟ میں نے شرارتاً کہا، بہت خوب، شاباش.
فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے فیض حمید کو 14 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہےکہ سابق لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے خلاف پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا عمل شروع کیا گیا اور یہ عمل 15 ماہ تک جاری رہا۔
یہ بھی پڑھیں: القادر ٹرسٹ کیس: اشتہاری ملزم کی بنی گالہ میں 405 کنال اراضی نیلام
الزامات کی تفصیلات
آئی ایس پی آر کے مطابق ملزم کے خلاف 4 الزامات پر کارروائی کی گئی، الزامات میں سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونا، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی، اختیارات اور سرکاری وسائل کا غلط استعمال اور متعلقہ افراد کو ناجائز نقصان پہنچانا شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جنوبی کوریا کے صدارتی انتخابات، لی جے میونگ نے میدان مار لیا
عدالتی فیصلہ
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ طویل اور محنت طلب قانونی کارروائی کے بعد ملزم تمام الزامات میں قصور وار قرار پایا ہے، عدالت کی جانب سے دی گئی سزا کا اطلاق 11 دسمبر 2025 سے شروع ہوگا۔
قانونی حقوق کا تحفظ
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے تمام قانونی تقاضے پورے کیے اور ملزم کو دفاع کے لیے وکیلوں کی ٹیم منتخب کرنے سمیت تمام قانونی حقوق فراہم کیے گئے۔








