خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے بین الصوبائی وفد کا خواتین کے تحفظ کے ماڈلز کا جائزہ لینے کے لیے پنجاب کا دورہ
بیٹھک کا معائنہ
لاہور( ڈیلی پاکستان آن لائن ) خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے 28 رکنی بین الصوبائی وفد نے خواتین کے تحفظ سے متعلق پنجاب کے مربوط نظام کا جائزہ لینے کے لیے لاہور کا دورہ کیا۔ وفد نے پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کے دفتر میں چئیرپرسن حنا پرویز بٹ سے تفصیلی ملاقات کی۔
یہ بھی پڑھیں: بہاولپور میں پولیس کا نظاظلم، زمین کے تنازع پر 15 سالہ لڑکی پر دہشتگردی کا پرچہ دیدیا
وفد کے شرکاء
وفد میں عدلیہ، پراسیکیوشن، پولیس، جیل، صحت اور سول سوسائٹی کے نمائندے شامل تھے، جبکہ اس دورے کا مقصد پنجاب میں صنفی بنیاد پر تشدد کے کیسز سے نمٹنے کے مربوط نظام سے سیکھنا اور مختلف اداروں کے تجربات پر تبادلۂ خیال کرنا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا پی آئی اے کی نیلامی کیلئے دوبارہ بولیاں طلب کرنے کا فیصلہ
حکومتی ماڈل کی بریفنگ
چئیرپرسن حنا پرویز بٹ نے وفد کو پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کے ماڈل، "ون روف سروس ڈلیوری"، ویمن پروٹیکشن سنٹرز، فوری رسپانس سسٹم، کیس مینجمنٹ اور دیگر ادارہ جاتی اصلاحات پر تفصیلی بریفنگ دی۔
یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں اماموں اور مذہبی شخصیات کا ذاتی ڈیٹا اکٹھا کرنا منظم ہراسانی ہے: دفتر خارجہ
قانونی مدد کی فراہمی
انہوں نے بتایا کہ پنجاب پروٹیکشن آف وومن اگینسٹ وائلنس ایکٹ 2016 کے تحت تمام خدمات ایف آئی آر، میڈیکل، قانونی امداد، کونسلنگ، اور شیلٹر ایک ہی چھت تلے فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ متاثرہ خواتین کو فوری اور باعزت انصاف فراہم ہو۔ حنا پرویز بٹ نے اس موقع پر کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت میں خواتین کے تحفظ کا نظام پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور مؤثر ہو چکا ہے۔ خواتین کے لیے محفوظ پنجاب ہمارا مشن اور ذمہ داری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور کی شاہ پور کانجراں مویشی منڈی میں بڑی واردات، ڈاکو بیوپاری سے 3 کروڑ روپے چھین کر فرار
بین الصوبائی وفد کا ردعمل
وفد کے شرکاء نے پنجاب کے ماڈل کو قابلِ تعریف اور قابلِ تقلید قرار دیا۔ یو این وویمن کے نمائندگان نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت میں خواتین کے تحفظ کا ماڈل پورے ملک میں سب سے مؤثر ثابت ہو رہا ہے، اور ہمیں یہاں سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے۔
مستقبل کی توقعات
وفد نے حنا پرویز بٹ اور پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ حقیقی معنوں میں خواتین کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی کے لیے فعال اور مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔ بین الصوبائی وفد نے امید ظاہر کی کہ اس دورے کے نتیجے میں دیگر صوبوں میں بھی سروس ڈیلیوری کے نظام کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی اور صنفی بنیاد پر تشدد کے خلاف مشترکہ جدوجہد کو فروغ ملے گا۔








