گردشی قرضہ ایک بارپھر بے قابو، رواں برس کتنے سو رب اضافے کا خطرہ ہے ؟ تہلکہ خیز رپورٹ
گردشی قرضہ: ایک نیا بحران
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) گردشی قرضہ ایک بار پھر بے قابو ہونے کا خطرہ، رواں برس میں کتنے سو ارب اضافے کا امکان ہے؟ اس حوالے سے ایک تہلکہ خیز رپورٹ سامنے آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان، آئل ٹینکر اور کوئلے کے ٹرک میں آتشزدگی، 16 افراد زخمی
توانائی کے بحران کے اثرات
سینئر صحافی مہتاب حیدر کی رپورٹ کے مطابق، توانائی کے بحران سے نمٹنے کے دوران ملک کے بجلی کے شعبے میں گردشی قرضہ ایک بار پھر بے قابو ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔ اگر مؤثر اصلاحاتی منصوبہ فوری نافذ نہ کیا گیا تو رواں مالی سال میں گردشی قرضے میں 734 ارب روپے کا بھاری اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت نے آئی ایم ایف کے میمورنڈم آف فنانشل اینڈ اکنامک پالیسیز (MEFP) کے تحت طے شدہ اقدامات کے ذریعے اس اضافے کو روکنے کا ہدف رکھا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چینی چینی کی پکار، مگر مچھوں نے جان بوجھ کر بحران پیدا کرایا، سوالوں کا جواب نہ ملا تو آئندہ انتخابات میں بڑے بریک تھرو ہوں گے
موجودہ صورتحال اور مستقبل کی پیشگوئی
جیو نیوز کے مطابق، اگر پالیسیاں موجودہ صورت میں جاری رہیں تو جون 2026 کے اختتام تک گردشی قرضہ 1.615 ٹریلین روپے سے بڑھ کر 2.35 ٹریلین روپے تک پہنچ سکتا ہے۔ وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے مالی سال 2025-26 کے لیے گردشی قرضہ مینجمنٹ پلان کی منظوری دے دی ہے۔ اس منصوبے کے تحت ٹیرف ری بیسنگ، تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات میں کمی اور ریکوریز میں بہتری کے اقدامات کیے جائیں گے تاکہ جاری سال گردشی قرضے کے بہاؤ کو تقریباً 522 ارب روپے تک محدود رکھا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کو آنکھ سے کتنا نظر آتا ہے، یہ فیصلہ کوئی وکیل نہیں بلکہ ماہر ڈاکٹر کرے گا، طلال چوہدری
ادائیگیاں اور قرضے کا حجم
حکومت کی ملکیتی پاور پلانٹس اور آئی پی پیز کو 400 ارب روپے کے قریب ادائیگیاں اور 120 ارب روپے کے پرنسپل کی مد میں واپسی بھی شامل ہے، تاکہ قرضے کا مجموعی حجم نیوٹرل رکھا جا سکے۔
آخری اعداد و شمار
رپورٹ کے مطابق، جولائی 2025 کے اختتام پر گردشی قرضہ 1.614 ٹریلین روپے تھا۔








