وفاقی آئینی عدالت کو شرعی عدالت منتقل کرنے کا بڑا فیصلہ، نوٹیفکیشن جاری
وفاقی آئینی عدالت کی منتقلی
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی آئینی عدالت کو وفاقی شرعی عدالت کی عمارت میں منتقل کرنے کا بڑا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس حوالے سے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مصطفیٰ ہیمانی کی قطر کے وزیر صنعت و تجارت شیخ احمد بن تھانی بن فیصل الثانی اور وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے ملاقات
نوٹیفکیشن کی تفصیلات
ایکسپریس نیوز کےمطابق نوٹفکیشن میں کہا گیا ہے کہ وفاقی آئینی عدالت کو موجودہ وفاقی شرعی عدالت کی عمارت میں منتقل کردیا جائے گا جبکہ شرعی عدالت کو اسلام آباد ہائی کورٹ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان جھڑپیں، 15 افراد ہلاک، 1 لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور
صدر مملکت کی منظوری
وفاقی آئینی عدالت کی منتقلی سے متعلق فیصلے کی صدرمملکت آصف علی زرداری نے منظوری دے دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کا بجٹ منظور
پچھلے انتظامات
قبل ازیں وفاقی آئینی عدالت اسلام آباد ہائی کورٹ کی عمارت میں بنائی گئی تھی جہاں چیف جسٹس آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان اور دیگر ججوں نے مقدمات کی سماعت شروع کی تھی۔
آئینی ترمیم کا پس منظر
خیال رہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے بجائے الگ سے وفاقی آئینی عدالت بنانے کی منظوری دی گئی تھی اور سپریم کورٹ کے جج جسٹس امین الدین خان کو آئینی عدالت کا چیف جسٹس مقرر کیا گیا اور دیگر ججوں کی تعیناتی کی گئی۔








