وفاقی آئینی عدالت کو شرعی عدالت منتقل کرنے کا بڑا فیصلہ، نوٹیفکیشن جاری
وفاقی آئینی عدالت کی منتقلی
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی آئینی عدالت کو وفاقی شرعی عدالت کی عمارت میں منتقل کرنے کا بڑا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس حوالے سے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں مسلسل زلزلے کیوں آ رہے ہیں؟ آخر کار اصل وجہ سامنے آگئی
نوٹیفکیشن کی تفصیلات
ایکسپریس نیوز کےمطابق نوٹفکیشن میں کہا گیا ہے کہ وفاقی آئینی عدالت کو موجودہ وفاقی شرعی عدالت کی عمارت میں منتقل کردیا جائے گا جبکہ شرعی عدالت کو اسلام آباد ہائی کورٹ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کا عدالتی اصلاحات کیلئے آن لائن فیڈبیک فارم کا اجراء
صدر مملکت کی منظوری
وفاقی آئینی عدالت کی منتقلی سے متعلق فیصلے کی صدرمملکت آصف علی زرداری نے منظوری دے دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: محمد اشفاق بدایونی کی دوسری کتاب “عابد اسکوائر” کی جلد رونمائی متوقع
پچھلے انتظامات
قبل ازیں وفاقی آئینی عدالت اسلام آباد ہائی کورٹ کی عمارت میں بنائی گئی تھی جہاں چیف جسٹس آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان اور دیگر ججوں نے مقدمات کی سماعت شروع کی تھی۔
آئینی ترمیم کا پس منظر
خیال رہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے بجائے الگ سے وفاقی آئینی عدالت بنانے کی منظوری دی گئی تھی اور سپریم کورٹ کے جج جسٹس امین الدین خان کو آئینی عدالت کا چیف جسٹس مقرر کیا گیا اور دیگر ججوں کی تعیناتی کی گئی۔








