انڈیا اور افغانستان سے بیٹھ کر پاکستان میں سوشل میڈیا پر دہشت گردی پر مبنی مواد چلایا جارہا ہے، طلال چودھری
سوشل میڈیا کے قوانین کی سختی
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو پاکستانی قوانین پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو کارروائی کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: سپیکر قومی اسمبلی سے اپوزیشن کے سینیٹرز اور اراکینِ قومی اسمبلی کی ملاقات
پریس بریفنگ کا خلاصہ
وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وزیرمملکت برائے قانون بیرسٹر دانیال نے مشترکہ پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ انڈیا اور افغانستان سے بیٹھ کر پاکستان میں سوشل میڈیا پر دہشتگردی پر مبنی مواد چلایا جارہا ہے۔ سوشل میڈیا کمپنیوں کو پہلے بھی کہا گیا تھا کہ وہ پاکستانی قوانین پر عمل کریں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا بنگلہ دیش کے خلاف ٹاس جیت کر بولنگ کا فیصلہ
سوشل میڈیا کمپنیوں کے ساتھ اقدامات
طلال چوہدری نے کہا کہ اگر سوشل میڈیا کمپنیوں نے پاکستانی قوانین پر عمل نہیں کیا تو کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغانستان کے حکومتی اداروں کے آفیشل اکاونٹس سے دہشتگردی پر مبنی مواد پھیلایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی نجومی کی فائنل میں پاکستان کی فتح کی پیشگوئی
پاکستان میں دفاتر کا قیام
وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کو پاکستان میں دفاتر بنانا ہوں گے، ورنہ حکومت کارروائی پر مجبور ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: پیر کی حویلی میں قتل ہونے والی بچی کی والدہ کا سنسنی خیز انکشاف
پاکستانی اداروں کی کوششوں کا ذکر
طلال چوہدری نے بتایا کہ دہشتگردی پر مبنی سوشل میڈیا اکاونٹس کے خلاف پاکستانی ادارے متعلقہ کمپنیوں سے رابطہ کرتے ہیں، مگر بعض کمپنیوں کے جوابات انتہائی کمزور ہوتے ہیں، اور اس مسئلہ کی روک تھام نہیں کی جاتی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: ہزاروں سال کی تاریخ اور مغلیہ سلطنت کا مرکز
سوشل میڈیا ریگولیشن کا انتباہ
وزیرمملکت نے کہا کہ 24 جولائی 2025 کو سوشل میڈیا ریگولیشن کا انتباہ جاری کیا تھا، جس میں واضح کیا گیا تھا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو پاکستان میں اپنے دفاتر کھولنے ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی میں مؤثر حکمت عملی بنانے والے لوگ نہیں ہیں، مولانا فضل الرحمان
جدید ٹیکنالوجی اور دہشتگردی کی روک تھام
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جدید ٹیکنالوجی یعنی اے آئی اور الگورڈمز کا استعمال کرتے ہوئے دہشتگردی پھیلائی جارہی ہے۔ انہوں نے مخصوص اکاونٹس کی شکایت کی، جو بھارت اور افغانستان سے آپریٹ ہو رہے تھے، اور کمزور جواب کا ذکر کیا۔
یہ بھی پڑھیں: نگہبان رمضان پیکیج کے تحت عوامی خدمت کا نیا ریکارڈ قائم کیا : وزیر اعلیٰ مریم نواز
حکومت کا مطالبہ
وزیرمملکت برائے داخلہ نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پاکستان میں اپنے دفاتر بنائیں۔ انہوں نے چائلڈ پورنوگرافی کے مواد کو فوری ڈیلیٹ کرنے کی مثال دیتے ہوئے سوال کیا کہ دہشتگردی کے مواد کو کیوں نہیں ہٹایا جاتا۔
یہ بھی پڑھیں: سیالکوٹ: ڈسکہ روڈ پر تیز رفتار کار کھڑی ٹریکٹر ٹرالی سے ٹکرا گئی، 5 افراد جاں بحق
دوہرے معیار کی مخالفت
بیرسٹر عقیل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے دوہرے معیار کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین کے معاملے پر ویڈیوز کو فوری طور پر ڈیلیٹ کردیا جاتا ہے لیکن دہشتگردی کے معاملات میں ایسا نہیں کیا جاتا۔
برازیل ماڈل کی تجاویز
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم نے تعاون نہیں کیا تو برازیل ماڈل اختیار کیا جا سکتا ہے، جس میں سوشل میڈیا کمپنیوں پر جرمانہ عائد ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے آپریشنز کی معطلی بھی شامل ہے۔








