انڈیا اور افغانستان سے بیٹھ کر پاکستان میں سوشل میڈیا پر دہشت گردی پر مبنی مواد چلایا جارہا ہے، طلال چودھری
سوشل میڈیا کے قوانین کی سختی
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو پاکستانی قوانین پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو کارروائی کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پیپلزپارٹی نے فیصل راٹھور کو وزیراعظم آزاد کشمیر کیلئے نامزد کردیا
پریس بریفنگ کا خلاصہ
وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وزیرمملکت برائے قانون بیرسٹر دانیال نے مشترکہ پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ انڈیا اور افغانستان سے بیٹھ کر پاکستان میں سوشل میڈیا پر دہشتگردی پر مبنی مواد چلایا جارہا ہے۔ سوشل میڈیا کمپنیوں کو پہلے بھی کہا گیا تھا کہ وہ پاکستانی قوانین پر عمل کریں۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا رائٹ سائزنگ منصوبے کے تحت 30 ہزار 968 سرکاری ملازمتیں ختم کرنے کا فیصلہ
سوشل میڈیا کمپنیوں کے ساتھ اقدامات
طلال چوہدری نے کہا کہ اگر سوشل میڈیا کمپنیوں نے پاکستانی قوانین پر عمل نہیں کیا تو کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغانستان کے حکومتی اداروں کے آفیشل اکاونٹس سے دہشتگردی پر مبنی مواد پھیلایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (ہفتے) کا دن کیسا رہے گا ؟
پاکستان میں دفاتر کا قیام
وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کو پاکستان میں دفاتر بنانا ہوں گے، ورنہ حکومت کارروائی پر مجبور ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: فلمساز جمشید محمود عرف جامی کو ہتکِ عزت کے کیس میں 2 سال قید کی سزا سنادی گئی
پاکستانی اداروں کی کوششوں کا ذکر
طلال چوہدری نے بتایا کہ دہشتگردی پر مبنی سوشل میڈیا اکاونٹس کے خلاف پاکستانی ادارے متعلقہ کمپنیوں سے رابطہ کرتے ہیں، مگر بعض کمپنیوں کے جوابات انتہائی کمزور ہوتے ہیں، اور اس مسئلہ کی روک تھام نہیں کی جاتی۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے پچھلے کئی دنوں سے کوشش کر رہے تھے، علی امین گنڈپور
سوشل میڈیا ریگولیشن کا انتباہ
وزیرمملکت نے کہا کہ 24 جولائی 2025 کو سوشل میڈیا ریگولیشن کا انتباہ جاری کیا تھا، جس میں واضح کیا گیا تھا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو پاکستان میں اپنے دفاتر کھولنے ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ انتظامیہ نے نئے سٹوڈنٹ ویزا انٹرویوز کو روکنے کا حکم دے دیا
جدید ٹیکنالوجی اور دہشتگردی کی روک تھام
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جدید ٹیکنالوجی یعنی اے آئی اور الگورڈمز کا استعمال کرتے ہوئے دہشتگردی پھیلائی جارہی ہے۔ انہوں نے مخصوص اکاونٹس کی شکایت کی، جو بھارت اور افغانستان سے آپریٹ ہو رہے تھے، اور کمزور جواب کا ذکر کیا۔
یہ بھی پڑھیں: میں کچھ نہیں کرتا، یہ سب اللہ کا کرم ہے، انڈر ۱۹ ایشیا کپ میں کامیابی کے بعد مینٹور سرفراز احمد کا بیان
حکومت کا مطالبہ
وزیرمملکت برائے داخلہ نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پاکستان میں اپنے دفاتر بنائیں۔ انہوں نے چائلڈ پورنوگرافی کے مواد کو فوری ڈیلیٹ کرنے کی مثال دیتے ہوئے سوال کیا کہ دہشتگردی کے مواد کو کیوں نہیں ہٹایا جاتا۔
یہ بھی پڑھیں: گوجرانوالہ میں سوتیلی ماں نے 7 سال کی بیٹی کو قتل کردیا
دوہرے معیار کی مخالفت
بیرسٹر عقیل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے دوہرے معیار کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین کے معاملے پر ویڈیوز کو فوری طور پر ڈیلیٹ کردیا جاتا ہے لیکن دہشتگردی کے معاملات میں ایسا نہیں کیا جاتا۔
برازیل ماڈل کی تجاویز
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم نے تعاون نہیں کیا تو برازیل ماڈل اختیار کیا جا سکتا ہے، جس میں سوشل میڈیا کمپنیوں پر جرمانہ عائد ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے آپریشنز کی معطلی بھی شامل ہے۔








