زندگی کے کٹھن وقت، سرکاری ٹیکے اور رمضان بازار کے گھپلے
مصنف کی شناسائی
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 377
یہ بھی پڑھیں: تجارتی جنگ میں شدت: ٹرمپ نے یورپی یونین اور میکسیکو پر 30 فیصد ٹیرف عائد کردیا
تناؤ کی رفتار
میں اُس کے دفتر سے باہر نکل گیا۔ ڈی جی نے ڈاکٹر سے میٹھا بن کر سارے پیسے وصول کیے اور پھر اینٹی کرپشن میں ایف آئی آر بھی درج کرا دی۔ کئی ماہ تک وہ اینٹی کرپشن کے چکر لگاتی رہی تھی۔ اسدمانی کا کینہ ختم نہ ہوا تھا میرا وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا ماسوائے میرے تبادلے کے۔ وہ بھی اس نے چھٹی والے دن بطور پراجیکٹ منیجر (ہیڈ کوارٹرز) راجن پور کر دیا۔ میری زندگی کا کڑا وقت میرا منتظر تھا۔
یہ بھی پڑھیں: مسافر بہت سے قریبی دیہاتوں سے آتے اور پنجاب کے مختلف علاقوں کا سفر کرتے، مقامی آڑھتی اپنا سامان اور فصلیں مختلف شہروں کو بھیجتے
ٹی اے بل کا مسئلہ
مجھے راجن پور ایک ایسے صاحب کو جوائننگ دینی تھی جس کی پروموشن میرے ہاتھ سے ہوئی تھی۔ میرے لئے یہ بڑی شرمندگی تھی۔ سیلاب کا زمانہ تھا میں نے راجن پور نہ جانے کا فیصلہ کیا۔ اتفاق سے ان دنوں میری کمر میں تکلیف تھی میں پروفیسر ڈاکٹر اویس سید صاحب کے زیر علاج تھا۔ صاحب کی وجہ سے میری ان سے بہت اچھی سلام دعا تھی۔ اپنی عادت کے برعکس انہوں نے مجھے ایک ہفتہ ریسٹ کا میڈیکل اپنے نسخہ پر ہی لکھ دیا جو میں نے دفتر جمع کرا دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر محمود رحمانی کی کانپور میں اندھے پن کے خلاف جہادی تحریک اور ایوارڈ
ٹی اے بل کا حیرت انگیز نتیجہ
ہاں میں بتانا بھول گیا کہ راجن پور سے واپسی پر ڈی جی نے اپنا ٹی اے بل اپنے پی اے طارق ملک کے ہاتھ مجھے بھجوایا۔ یہ ایک رات قیام اور آنے جانے کے کرائے کا ہونا چاہیے تھا مگر یہ 3 رات اور آنے جانے کے لئے بذریعہ سرکاری کار لکھا تھا حالانکہ ڈی جی نے ڈائیو بس سے سفر کیا تھا۔ ایک رات کا ٹی اے 6 ہزار روپے تھا، جبکہ اگر کار میں سفر کریں تو 10 روپے فی کلو میٹر کے حساب سے ادائیگی ہوتی تھی اور اگر بس سے سفر کریں تو بس کا ٹکٹ ٹی اے بل کے ساتھ لف کرنا ہوتا تھا۔ پی اے نے مجھے 24 ہزار کا ٹی اے بل بنا کر دیا۔ میں نے کہا؛ "بنتا تو 10 ہزار ہے۔" کہنے لگا؛ "سر! آپ نے کون سا پلے سے دینا ہے۔ یونیسیف کے پیسے ہیں۔" میں نے اسے کہا؛ "طارق: خیال کرو یہ پیسہ امانت ہے اور امانت میں خیانت نہیں کی جاتی۔" وہ چلا گیا۔ یہ میرا ڈی جی سے دور اختلاف تھا。
یہ بھی پڑھیں: گرمی سے تنگ لودھراں کا نوجوان گھر والوں سے کھاد اور سپرے کے پیسے لے کر مری سیر کو نکل گیا
حکومت کا مقروض ہونا
یہ بھی بتاتا چلوں کہ آج بھی حکومت کے ذمے میرے بہت سے ٹی اے بلز، ٹرانسفر بلز ہیں جو فنڈز کی کمی کے باعث کبھی بھی ادا نہ ہوئے۔ خیر حکومت ہی میری مقروض رہی جبکہ میں حکومت کی ایک پائی کا بھی دیندار نہیں تھا۔ الحمداللہ۔ یہ بھی صداقت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے ڈاکٹر کے رضاکارانہ استعفے پر پنشن کیس کا 24 سال بعد فیصلہ سنا دیا
افسر شاہی کی ایمانداری
میں نے سبھی کے ٹی اے بل کے چیکس بنائے، نوٹ لکھا، کاپی اپنے ریکارڈ کے لئے رکھی اور منظوری کے لئے بھجوا دئیے۔ ساتھ ہی نوٹ لکھا "میں اس پراجیکٹ میں مزید کام نہیں کرنا چاہتا، کسی اور افسر کو یہ assignment سونپ دی جائے۔" سبھی چیک 3 دن بعد دستخط ہو کر آئے جبکہ میری ٹرانسفر بھی اُسی دن ہی کر دی گئی اور میری جگہ یہ assignment قیوم صاحب کے سپرد ہوئی۔ قیوم نیچے سے ترقی کر کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر پروموٹ ہوا تھا۔ ملنسار اور ہنس مکھ افسر تھا۔ وفات پا چکا ہے۔ اللہ اُس کے درجت بلند کرے۔ آمین۔ یہ ہے افسر شاہی کی ایمانداری کی ایک جھلک۔
یہ بھی پڑھیں: ہم نے خاص و عام کے چکر میں ملک کا کیا حال کر دیا ہے، پسینے چھوٹ رہے تھے، ڈچ خاتون افسر نے ایسی بات کہہ ڈالی جو آج بھی ذہن سے نکل نہیں سکی
بدعنوانیوں کی جھلک
میں ایسے بھی کچھ افسران کو جانتا ہوں جو سرکاری دورے پر اس شان سے نکلتے تھے کہ ان کے ساتھ ایکسٹرا گاڑی بھی ہوتی کہ اگر پہلی موٹر خراب ہو جائے تو زحمت نہ ہو۔ کسی فنکشن کے لئے انتظامات کسی اپنے کو دینا اور ریٹ کئی گنا بڑھا کر بل بنوانا بھی اُن کے دائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ ایسی ہی ایک تقریب جس کا مقامی کیٹرنگ کمپنی نے estimate بارہ لاکھ دیا تھا لاہور کی ایک فرم کو 80 لاکھ میں دیا گیا تھا۔
نتیجہ
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔








