New Petition Filed Against Proposed Constitutional Amendments in Supreme Court
سپریم کورٹ میں نئی درخواست دائر
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ میں مجوزہ آئینی ترامیم کیخلاف نئی درخواست دائر ہو گئی۔
یہ بھی پڑھیں: مشکوک پراپرٹیز کی رپورٹ طلب، جو افغان یا غیر ملکی کو پراپرٹی رینٹ پر دے گا تو بھرپور ایکشن ہوگا: وزیر اعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ
درخواست کی تفصیلات
سما ٹی وی کے مطابق نئی درخواست صائم چودھری ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی، درخواست میں وفاق، سپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین سینیٹ اور وزارت قانون کو فریق بنایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جے شاہ کی محسن نقوی کو پاک بھارت میچ دیکھنے کی دعوت
درخواست کا موقف
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ مجوزہ ترامیم بنیادی حقوق، آئین اور عدلیہ کی آزادی کے منافی ہیں۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ مجوزہ آئینی ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے، ایگزیکٹو کو عدلیہ سے متعلق آئینی ترمیم کرنے سے روکا جائے۔
مزید استدعا اور تحفظات
درخواست میں مزید استدعا کی گئی ہے کہ ججز کی ریٹائرمنٹ کی عمر کا آرٹیکل 179 بنیادی آئینی ڈھانچہ قرار دیا جائے، اور یہ بھی قرار دیا جائے کہ حکومت عدلیہ کی آزادی اور غیرجانبداری میں مداخلت نہیں کر سکتی۔








