دل ہی دل میں اودھ کو الوداع کہا، نشست کی پشت سے ٹیک لگا لی، سب خواب خرگوش کے مزے لینے لگے، دہلی پہنچے تو رات کا 1 بج چکا تھا۔
تاج Mahal کی یادگاریں
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 247
نماز مغرب کے بعد ہم لوگ تاج Mahal کی حدود سے باہر آ گئے اور بذریعہ میکسی یعنی اونٹ گاڑی پر سواری کرتے ہوئے اپنی فلائنگ کوچ تک پہنچے۔ یہاں تاج Mahal کے یادگاری ماڈل، کی چین، ہاتھی دانت کے ہار اور دیگر کھلونے وغیرہ فروخت کرنے والے لڑکوں کی ایک فوج نے ہمیں اپنے محاصرے میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں: رائیڈرز کو ٹپ دینا فرض نہیں لیکن انہیں ذلیل کرنا جرم ہے، فضا علی کا ندا یاسر کو جواب
خریداری کا سامان
یہاں بھی ارشاد چوہدری اور جہانگیر جھوجھہ کام آئے اور انہوں نے کچھ چیزیں ان لڑکوں کے بتائے ہوئے داموں سے نصف سے بھی کم قیمت پر ان سے خریدیں اور تمام ارکان میں ان کی پسند کے مطابق تقسیم کر دیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے مختلف شہر زلزلے سے لرز اٹھے، شدت 5.8 ریکارڈ
آگرہ کا الوداع
ہم نے دل ہی دل میں اس تاریخی شہر آگرہ کو الوداع کہا اور نشست کی پشت سے ٹیک لگا لی۔ جلد ہی ہم سب خواب خرگوش کے مزے لینے لگے۔ دہلی گاندھی فاؤنڈیشن پہنچے تو رات کا ایک بج چکا تھا۔ تھکاوٹ تھی کہ ہمارے حواس پر بارہ بجا رہی تھی۔ گاندھی فاؤنڈیشن کے بے آرام بستروں پر دراز ہوئے تو تھکاوٹ کے سبب آرام سے نیند آ گئی۔
یہ بھی پڑھیں: سوڈان، مسجد پر ڈرون حملے میں 75 شہری شہید، خانہ جنگی میں نسلی تشدد بڑھ رہا ہے، اقوام متحدہ کا انتباہ
دہلی میں آخری دن
صبح اٹھے تو ناشتے کی میز پر دہلی میں اپنے قیام کے اس آخری دن کو گزارنے کے بارے میں تجاویز پر رائے زنی کرنے لگے۔ بالآخر طے ہوا کہ خواتین سجاد بٹ صاحب کی قیادت میں مارکیٹ چلی جائیں جبکہ باقی لوگ پروگرام کے مطابق انجمن ترقی اردو کے دفاتر کا چکر لگانے کے بعد مارکیٹ یا کچھ تاریخی مقامات کا دورہ کرنے کے بارے میں فیصلے کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ندا یاسر کا نیا ہیئر اسٹائل وائرل، صارفین کے دلچسپ تبصرے
انجمن ترقی اردو کا دورہ
انجمن ترقی اردو کا دفتر گاندھی فاؤنڈیشن کے قریب نئی دہلی کی آبادی راؤز ایونیو میں واقع ہے۔ ناشتہ کے بعد ہم لوگ "اردو گھر" کی طرف پیدل روانہ ہوئے۔ اردو گھر اس عمارت کا نام ہے جس میں انجمن ترقی اردو کے دفاتر قائم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: محسن نقوی نے ٹی چوک فلائی اوور اور شاہین چوک انڈر پاس منصوبوں کا دورہ، تعمیراتی سرگرمیوں کا جائزہ لیا
اردو گھر میں ملاقات
چند منٹ پیدل کی مسافت پر سڑک کی مخالف سمت ہمیں انجمن ترقی اردو کا بورڈ آویزاں دکھائی دیا۔ ہم لوگوں نے سڑک کراس کی اور عمارت کے دروازے پر کھڑے چوکیدار سے معلومات حاصل کیں تو پتہ چلا کہ انجمن کا دفتر تیسری منزل پر ہے۔
ڈاکٹر خلیق انجم سے ملاقات
ہم یہاں آنے سے قبل ڈاکٹر صاحب کو باضابطہ طور پر اطلاع دئیے بغیر اپنی سہولت کے مطابق یہاں آن دھمکے تھے۔ اس لیے ہماری آمدان کے لیے اس لمحے غیر متوقع تھی۔ بہرحال انہوں نے اردو گھر میں ہم بن بلائے مہمانوں کا خندہ پیشانی سے استقبال کیا۔ راقم نے وفد کے ارکان کا تعارف کروایا۔ گفتگو کا آغاز ہوا تو ڈاکٹر خلیق انجم نے بتایا کہ اس انجمن کی عمر ایک صدی سے زیادہ ہے۔ اس انجمن کی جڑیں سرسید احمد خاں کی قائم کردہ مسلم ایجوکیشنل کانفرنس سے جا ملتی ہیں۔








