دل ہی دل میں اودھ کو الوداع کہا، نشست کی پشت سے ٹیک لگا لی، سب خواب خرگوش کے مزے لینے لگے، دہلی پہنچے تو رات کا 1 بج چکا تھا۔
تاج Mahal کی یادگاریں
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 247
نماز مغرب کے بعد ہم لوگ تاج Mahal کی حدود سے باہر آ گئے اور بذریعہ میکسی یعنی اونٹ گاڑی پر سواری کرتے ہوئے اپنی فلائنگ کوچ تک پہنچے۔ یہاں تاج Mahal کے یادگاری ماڈل، کی چین، ہاتھی دانت کے ہار اور دیگر کھلونے وغیرہ فروخت کرنے والے لڑکوں کی ایک فوج نے ہمیں اپنے محاصرے میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں 2025 کے پہلے 8 ماہ میں دہشت گردی کے 605 واقعات میں 138 شہری شہید
خریداری کا سامان
یہاں بھی ارشاد چوہدری اور جہانگیر جھوجھہ کام آئے اور انہوں نے کچھ چیزیں ان لڑکوں کے بتائے ہوئے داموں سے نصف سے بھی کم قیمت پر ان سے خریدیں اور تمام ارکان میں ان کی پسند کے مطابق تقسیم کر دیں۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں عمارت کے حادثے میں ہلاکتوں پر امیر جماعت اسلامی کا بیان بھی آ گیا
آگرہ کا الوداع
ہم نے دل ہی دل میں اس تاریخی شہر آگرہ کو الوداع کہا اور نشست کی پشت سے ٹیک لگا لی۔ جلد ہی ہم سب خواب خرگوش کے مزے لینے لگے۔ دہلی گاندھی فاؤنڈیشن پہنچے تو رات کا ایک بج چکا تھا۔ تھکاوٹ تھی کہ ہمارے حواس پر بارہ بجا رہی تھی۔ گاندھی فاؤنڈیشن کے بے آرام بستروں پر دراز ہوئے تو تھکاوٹ کے سبب آرام سے نیند آ گئی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی ہائی کمیشن نے پاکستان کو دریاؤں میں سیلاب سے متعلق نئی وارننگ جاری کر دی
دہلی میں آخری دن
صبح اٹھے تو ناشتے کی میز پر دہلی میں اپنے قیام کے اس آخری دن کو گزارنے کے بارے میں تجاویز پر رائے زنی کرنے لگے۔ بالآخر طے ہوا کہ خواتین سجاد بٹ صاحب کی قیادت میں مارکیٹ چلی جائیں جبکہ باقی لوگ پروگرام کے مطابق انجمن ترقی اردو کے دفاتر کا چکر لگانے کے بعد مارکیٹ یا کچھ تاریخی مقامات کا دورہ کرنے کے بارے میں فیصلے کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: آٹھ مقام: کھیت میں داخل ہونے پر ملزمان نے کلہاڑی کے وار سے گائے کی دم کاٹ دی
انجمن ترقی اردو کا دورہ
انجمن ترقی اردو کا دفتر گاندھی فاؤنڈیشن کے قریب نئی دہلی کی آبادی راؤز ایونیو میں واقع ہے۔ ناشتہ کے بعد ہم لوگ "اردو گھر" کی طرف پیدل روانہ ہوئے۔ اردو گھر اس عمارت کا نام ہے جس میں انجمن ترقی اردو کے دفاتر قائم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: توشہ خانہ ٹو کیس: عمران خان کی درخواست ضمانت پر ایف آئی اے کو نوٹس جاری
اردو گھر میں ملاقات
چند منٹ پیدل کی مسافت پر سڑک کی مخالف سمت ہمیں انجمن ترقی اردو کا بورڈ آویزاں دکھائی دیا۔ ہم لوگوں نے سڑک کراس کی اور عمارت کے دروازے پر کھڑے چوکیدار سے معلومات حاصل کیں تو پتہ چلا کہ انجمن کا دفتر تیسری منزل پر ہے۔
ڈاکٹر خلیق انجم سے ملاقات
ہم یہاں آنے سے قبل ڈاکٹر صاحب کو باضابطہ طور پر اطلاع دئیے بغیر اپنی سہولت کے مطابق یہاں آن دھمکے تھے۔ اس لیے ہماری آمدان کے لیے اس لمحے غیر متوقع تھی۔ بہرحال انہوں نے اردو گھر میں ہم بن بلائے مہمانوں کا خندہ پیشانی سے استقبال کیا۔ راقم نے وفد کے ارکان کا تعارف کروایا۔ گفتگو کا آغاز ہوا تو ڈاکٹر خلیق انجم نے بتایا کہ اس انجمن کی عمر ایک صدی سے زیادہ ہے۔ اس انجمن کی جڑیں سرسید احمد خاں کی قائم کردہ مسلم ایجوکیشنل کانفرنس سے جا ملتی ہیں۔








