قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر اللہ کو حاضر ناظر جان کر حلفاً کہتا ہوں میری ڈگری اصلی ہے: جسٹس طارق جہانگیری
اسلام آباد ہائیکورٹ میں ڈگری تنازع کیس
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق جہانگیری نے ڈگری تنازع کیس میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سرفراز ڈوگر کے بینچ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کیس دوسرے بینچ کو منتقل کرنے کا مطالبہ کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: شام کے بعد اسرائیل نے ایک اور مسلمان ملک پر حملہ کردیا
سماعت کا پس منظر
جسٹس طارق جہانگیری کے ڈگری سے متعلق تنازع کے کیس کی سماعت چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس اعظم خان پر مشتمل بینچ نے کی، جس دوران جسٹس طارق جہانگیری اور اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت سے اتحاد کے خاتمے کا مطالبہ، پیپلزپارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی
عدالت میں گفتگو
دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ معزز جج صاحب آئے ہوئے ہیں، مجھے صرف جہانگیری صاحب کو سننا ہے۔ جسٹس طارق جہانگیری نے کہا مجھے جمعرات کو نوٹس ملا ہے، نوٹس کے ساتھ پٹیشن کی کاپی تک نہیں ہے، 34 سال پرانا کیس ہے، مجھے پٹیشن کی کاپی ملنے کے لیے وقت دیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیا کپ کی جیت کو ’’آپریشن سندور‘‘ سے جوڑنے پر بھارتی اپوزیشن نے مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا
اعتراضات اور تنازعہ
جسٹس طارق جہانگیری نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر کے بینچ میں بیٹھنے پر اعتراض اٹھا دیا، جس پر چیف جسٹس نے کہا آپ بھی جج ہیں، میں بھی جج ہوں، میں نے آپ کے خلاف پٹیشن فائل کی۔
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں بجلی سستی ہو گئی
مفادات کا ٹکراؤ
جسٹس طارق جہانگیری نے کہا یہ مفادات کا ٹکراؤ ہے، آپ اس کیس میں میرے خلاف نہیں بیٹھ سکتے، میرا یہ اعتراض ہے کہ آپ یہ کیس نا سنیں، کووارنٹو کی رٹ کبھی بھی ڈویژن بینچ نہیں سنتا، سنگل بینچ سنتا ہے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے انصاف آپ کو ویسے ہی ملے گا جیسے کسی اور ملتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خلیجی ممالک نے جنگی اخراجات اور مالی دباؤ پر مغربی ممالک سے سرمایہ کاری نکالنے پر غور شروع کر دیا
دوش تلخیوں کا ذکر
انہوں نے کہا کہ قتل کیس میں بھی 7 دن بعد فرد جرم عائد ہوتی ہے، آپ نے صرف 3 دن کا نوٹس دے دیا۔ اگر یہ عدالتی نظیر قائم کریں گے تو تباہ کن اثرات ہوں گے۔
جسٹس طارق جہانگیری کا کہنا تھا قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر اللہ کو حاضر ناظر جان کر حلفاً کہتا ہوں میری ڈگری اصلی ہے، یونیورسٹی نے یہ نہیں کہا کہ ڈگری جعلی ہے اور انہوں نے ایشو نہیں کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کی سینیٹر فلک ناز چترالی نے بھی قائمہ کمیٹیوں سے استعفیٰ دے دیا، تعداد 10 ہو گئی۔
پیش کردہ درخواست
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے مکالمہ کرتے ہوئے جسٹس طارق جہانگیری کا کہنا تھا مجھے آپ کے بینچ پر اعتماد نہیں، اگر کیس سننا ہے تو کسی اور بینچ کو بھجوا دیں، مجھے کچھ مہلت بھی دی جائے۔
عدالتی احکامات
اسلام آباد ہائیکورٹ نے کراچی یونیورسٹی کے رجسٹرار کو ریکارڈ سمیت طلب کرتے ہوئے جسٹس طارق جہانگیری کو پٹیشن اور تمام متعلقہ دستاویزات فراہم کرنے کی ہدایت کر دی اور کیس کی سماعت جمعرات 18 دسمبر تک ملتوی کردی۔








