لاہور ہائیکورٹ کا پنجاب حکومت کے پراپرٹی بارے بنائے گئے قانون پر تحفظات کا اظہار
لاہور ہائیکورٹ کا پنجاب حکومت کے پراپرٹی قانون پر تحفظات
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کے پراپرٹی سے متعلق بنائے گئے قانون پر تحفظات کا اظہار کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: مجرموں اور جرائم کے خلاف زیرو ٹالرنس وژن، سرگودھا میں بیٹ سسٹم کا جدید ترین نظام نافذ، جرائم کی شرح میں 75 فیصد تک کمی
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے پنجاب پراپرٹی آنر شپ آرڈیننس کے خلاف کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے پنجاب حکومت کے پراپرٹی سے متعلق بنائے گئے قانون پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے 6 درخواستوں پر اعترضات ختم کر دیئے۔
یہ بھی پڑھیں: 26 ویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ کی بالا دستی کیلئے ضروری تھی:مریم نواز
عدالتی سوالات اور تشویش
عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ یہ کیا مذاق ہو رہا ہے، یہ پٹواری اور اے سی کو جج بننے کا شوق چڑھا ہے، ایک معاملہ سپریم کورٹ میں زیرالتوا ہے تو پٹواری کیسے کارروائی کرسکتا ہے؟ کیا پاکستان اب جنگل بن گیا ہے، جو پٹواری اور تحصیل دار جعلی دستاویزات تیار کرتا ہے وہی جائیدادوں کا فیصلہ کرے گا؟
یہ بھی پڑھیں: تحریکِ انصاف کا خیبر پختونخوا بھر میں احتجاج، پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال
چیف جسٹس کا اظہار خیال
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیئے کہ ہم یہ ظلم نہیں ہونے دیں گے، اے سی اور پٹواری کو جج بننے کا اتنا شوق ہے تو امتحان دے کر سسٹم کا حصہ بنیں۔ آپ کا پیرا کیا کر رہا ہے، کیا اب پیرا لوگوں کو ڈگریاں دے گا؟ یہ قانون کس نے بنایا ہے؟ کیا کسی قانونی دماغ سے مشاورت کی؟ آپ نے ٹریبونلز بنائے مگر وہ بھی صرف آنکھوں کا دھوکہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلائنڈ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے شیڈول کا اعلان ہو گیا
درخواستوں کا پس منظر
واضح رہے کہ ایڈووکیٹ قمرالزماں اعوان سمیت دیگر کی جانب سے درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔ درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا کہ پنجاب حکومت نے نیا قانون بنایا ہے جس کے تحت ڈی سی اے سی کو پراپرٹی تنازعات سے متعلق اختیار دیا ہے۔ فیصل آباد میں پراپرٹی 50 سال لیز پر لی گئی تھی، کیس سپریم کورٹ میں زیرالتوا تھا، دوسرے فریق نے نئے قانون کے تحت ڈی سی کو درخواست دی، جس پر ڈی سی فیصل آباد نے درخواست پر پراپرٹی سیل کر دی، استدعا ہے کہ عدالت ڈی سی کا فیصلہ کالعدم قرار دے۔
عدالت کی کارروائی
بعدازاں، عدالت نے درخواستوں پر نوٹس جاری کرتے ہوئے 22 دسمبر کو جواب طلب کر لیا۔








