لاہور ہائیکورٹ کا پنجاب حکومت کے پراپرٹی بارے بنائے گئے قانون پر تحفظات کا اظہار
لاہور ہائیکورٹ کا پنجاب حکومت کے پراپرٹی قانون پر تحفظات
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کے پراپرٹی سے متعلق بنائے گئے قانون پر تحفظات کا اظہار کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی صورت میں فوری کارروائی کی جائے گی: عظمٰی بخاری
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے پنجاب پراپرٹی آنر شپ آرڈیننس کے خلاف کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے پنجاب حکومت کے پراپرٹی سے متعلق بنائے گئے قانون پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے 6 درخواستوں پر اعترضات ختم کر دیئے۔
یہ بھی پڑھیں: خواہش پوری نہ کرنے پر بہنوئی نے سالی کو قتل کردیا، لاش کے ٹکڑے کرکے مختلف جگہوں پر پھینک دیے
عدالتی سوالات اور تشویش
عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ یہ کیا مذاق ہو رہا ہے، یہ پٹواری اور اے سی کو جج بننے کا شوق چڑھا ہے، ایک معاملہ سپریم کورٹ میں زیرالتوا ہے تو پٹواری کیسے کارروائی کرسکتا ہے؟ کیا پاکستان اب جنگل بن گیا ہے، جو پٹواری اور تحصیل دار جعلی دستاویزات تیار کرتا ہے وہی جائیدادوں کا فیصلہ کرے گا؟
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی عمران خان کی 9مئی کے 4مقدمات میں ضمانت منظور
چیف جسٹس کا اظہار خیال
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیئے کہ ہم یہ ظلم نہیں ہونے دیں گے، اے سی اور پٹواری کو جج بننے کا اتنا شوق ہے تو امتحان دے کر سسٹم کا حصہ بنیں۔ آپ کا پیرا کیا کر رہا ہے، کیا اب پیرا لوگوں کو ڈگریاں دے گا؟ یہ قانون کس نے بنایا ہے؟ کیا کسی قانونی دماغ سے مشاورت کی؟ آپ نے ٹریبونلز بنائے مگر وہ بھی صرف آنکھوں کا دھوکہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایئر سیال کے پاس ٹوٹل 3 طیارے اور تینوں ہی خراب، معاملہ عدالت لے کر جاؤں گا، میاں داؤد ایڈووکیٹ
درخواستوں کا پس منظر
واضح رہے کہ ایڈووکیٹ قمرالزماں اعوان سمیت دیگر کی جانب سے درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔ درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا کہ پنجاب حکومت نے نیا قانون بنایا ہے جس کے تحت ڈی سی اے سی کو پراپرٹی تنازعات سے متعلق اختیار دیا ہے۔ فیصل آباد میں پراپرٹی 50 سال لیز پر لی گئی تھی، کیس سپریم کورٹ میں زیرالتوا تھا، دوسرے فریق نے نئے قانون کے تحت ڈی سی کو درخواست دی، جس پر ڈی سی فیصل آباد نے درخواست پر پراپرٹی سیل کر دی، استدعا ہے کہ عدالت ڈی سی کا فیصلہ کالعدم قرار دے۔
عدالت کی کارروائی
بعدازاں، عدالت نے درخواستوں پر نوٹس جاری کرتے ہوئے 22 دسمبر کو جواب طلب کر لیا۔








