لاہور ہائیکورٹ کا پنجاب حکومت کے پراپرٹی بارے بنائے گئے قانون پر تحفظات کا اظہار
لاہور ہائیکورٹ کا پنجاب حکومت کے پراپرٹی قانون پر تحفظات
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کے پراپرٹی سے متعلق بنائے گئے قانون پر تحفظات کا اظہار کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: نائیک سیف علی جنجوعہ شہید( نشان حیدر )کا آج 76واں یوم شہادت
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے پنجاب پراپرٹی آنر شپ آرڈیننس کے خلاف کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے پنجاب حکومت کے پراپرٹی سے متعلق بنائے گئے قانون پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے 6 درخواستوں پر اعترضات ختم کر دیئے۔
یہ بھی پڑھیں: نو پرائیویٹائزیشن، آؤٹ سورس کیے گئے سکولز آج بھی ریاست کی ملکیت ہیں: وزیر تعلیم پنجاب
عدالتی سوالات اور تشویش
عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ یہ کیا مذاق ہو رہا ہے، یہ پٹواری اور اے سی کو جج بننے کا شوق چڑھا ہے، ایک معاملہ سپریم کورٹ میں زیرالتوا ہے تو پٹواری کیسے کارروائی کرسکتا ہے؟ کیا پاکستان اب جنگل بن گیا ہے، جو پٹواری اور تحصیل دار جعلی دستاویزات تیار کرتا ہے وہی جائیدادوں کا فیصلہ کرے گا؟
یہ بھی پڑھیں: علیزے شاہ ندا یاسر اور صبا فیصل کی ٹرولنگ پر خوش، بیان وائرل
چیف جسٹس کا اظہار خیال
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیئے کہ ہم یہ ظلم نہیں ہونے دیں گے، اے سی اور پٹواری کو جج بننے کا اتنا شوق ہے تو امتحان دے کر سسٹم کا حصہ بنیں۔ آپ کا پیرا کیا کر رہا ہے، کیا اب پیرا لوگوں کو ڈگریاں دے گا؟ یہ قانون کس نے بنایا ہے؟ کیا کسی قانونی دماغ سے مشاورت کی؟ آپ نے ٹریبونلز بنائے مگر وہ بھی صرف آنکھوں کا دھوکہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سونے اور چاندی کی قیمتوں نے تمام ریکارڈ توڑ دئیے
درخواستوں کا پس منظر
واضح رہے کہ ایڈووکیٹ قمرالزماں اعوان سمیت دیگر کی جانب سے درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔ درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا کہ پنجاب حکومت نے نیا قانون بنایا ہے جس کے تحت ڈی سی اے سی کو پراپرٹی تنازعات سے متعلق اختیار دیا ہے۔ فیصل آباد میں پراپرٹی 50 سال لیز پر لی گئی تھی، کیس سپریم کورٹ میں زیرالتوا تھا، دوسرے فریق نے نئے قانون کے تحت ڈی سی کو درخواست دی، جس پر ڈی سی فیصل آباد نے درخواست پر پراپرٹی سیل کر دی، استدعا ہے کہ عدالت ڈی سی کا فیصلہ کالعدم قرار دے۔
عدالت کی کارروائی
بعدازاں، عدالت نے درخواستوں پر نوٹس جاری کرتے ہوئے 22 دسمبر کو جواب طلب کر لیا۔








