صدر مملکت نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کے ڈی نوٹیفکیشن کی منظوری دیدی
صدرِ مملکت کی ڈی نوٹیفکیشن کی منظوری
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے وزیرِ اعظم کے مشورے پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈی نوٹیفکیشن کی منظوری دے دی۔
یہ بھی پڑھیں: فتنہ الخوارج کے مکمل خاتمے تک جدوجہد جاری رہے گی: صدر مملکت
جسٹس جہانگیری کی تقرری غیر قانونی قرار
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق صدرِ مملکت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کی روشنی میں جسٹس طارق محمود جہانگیری کی تقرری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ڈی نوٹیفکیشن کی منظوری دی۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کو دس سال قید نہیں بلکہ آرٹیکل 6 کے تحت عمر قید یا سزائے موت ہو سکتی ہے: نجم ولی خان کا تجزیہ
معزول شدہ جج کی ڈی نوٹیفیکیشن
معزول شدہ جج طارق محمود جہانگیری کو وزارت قانون و انصاف نے باضابطہ طور پر ڈی نوٹیفائی کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی فوج کے ساتھ مل کر بھارت کا مقابلہ کریں گے، سکھ فار جسٹس کے سربراہ گرپتونت سنگھ پنوں کا بیان
اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ
واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈگری کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس طارق جہانگیری کی بطور جج تعیناتی کالعدم قرار دیدی تھی اور جج کے عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا تھا۔
ڈویژن بنچ کا حکم
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد اعظم خان پر مشتمل ڈویژن بنچ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی تعیناتی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے وفاقی وزارت قانون کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا حکم دیا تھا اور کہا تھا کہ جسٹس طارق محمود جہانگیری ایڈیشنل جج اور بعدازاں مستقل جج بننے کے وقت قابل قبول ایل ایل بی کی ڈگری کے حامل نہیں تھے.








