شہزاد اکبر کو واپس پاکستان لانے کے لیے وفاقی حکومت نے برطانیہ سے کیس ٹو کیس معاملہ اٹھانے کا فیصلہ کر لیا
سابق مشیر احتساب کی واپسی کا معاملہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)۔ وفاقی حکومت نے سابق مشیر احتساب شہزاد اکبر کو واپس پاکستان لانے کے لیے برطانیہ سے کیس ٹو کیس معاملہ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں، وفاقی حکومت نے برطانیہ میں مقیم عادل راجہ کے خلاف تفصیلات بھی برطانیہ بھیج دی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور سے گرفتار ارب پتی چور کا عبدالرزاق کے گھر بھی واردات کا انکشاف
اسٹیٹس کی تفصیلات
سما ٹی وی کے مطابق، ذرائع کا کہنا ہے کہ شہزاد اکبر سے متعلق تمام مقدمات اور عدالتی کارروائیوں کی تفصیلات برطانیہ کو فراہم کر دی گئی ہیں۔ یہ دستاویزات وزیر داخلہ محسن نقوی نے برطانوی ہائی کمشنر کو دیں۔ ان میں شہزاد اکبر کے خلاف اسلام آباد میں درج 3 مقدمات کا ذکر ہے۔ ان مقدمات میں سے 2 تھانہ سیکرٹیریٹ میں اور 1 تھانہ کوہسار میں درج ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی متاثر، شدید بحران کا خدشہ
قانونی مسائل کی معلومات
دستاویزات میں شہزاد اکبر کی نیب عدالت سے سزا کی تفصیلات شامل ہیں۔ این سی سی آئی اے اور ایف آئی اے کے مقدمات کی معلومات بھی فراہم کی گئی ہیں۔ مقامی عدالت سے شہزاد اکبر کو اشتہاری قرار دیے جانے کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جاسوسی کا الزام، روس نے برطانوی سفارتکار کو ملک بدر کردیا
ملاقات کی تفصیلات
یاد رہے کہ چند دن قبل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ سے ملاقات کی تھی، جس میں انہوں نے سابق وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر اور یوٹیوبر عادل راجا کی حوالگی کے کاغذات ہائی کمشنر کے حوالے کیے تھے۔
حوالگی کی درخواست
بیان کے مطابق، پاکستانی حکومت کی جانب سے شہزاد اکبر اور عادل راجا کی حوالگی کے کاغذات جین میریٹ کے حوالے کیے گئے۔ محسن نقوی نے کہا کہ دونوں افراد پاکستان میں مطلوب ہیں اور انہیں فوری طور پر پاکستان کے حوالے کیا جانا چاہیے۔








