فریبِ عام برائے عوام چل رہا ہے۔۔۔
بے چینی اور عدم استحکام
نہ بات بنتی ہے کوئی نہ کام چل رہا ہے
کئی دنوں سے یہی انتظام چل رہا ہے
یہ بھی پڑھیں: کامیاب آپریشنز دشمن کو پیغام ہے کہ پاکستان ناقابلِ شکست ہے: وزیر اعلیٰ مریم نواز
خدا کا شکر
اُس اِک لکیر پہ دیکھو مدام چل رہا ہے
خدا کا شکر کہ سارا نظام چل رہا ہے
اگر ہو اور کوئی حکم تو سنا دیجے
محاذِ جاں کی طرف یہ غلام چل رہا ہے
یہ بھی پڑھیں: سینیٹر افنان اللہ کی نواز شریف سے ملاقات کی کوشش، پنجاب پولیس کا ڈی ایس پی مداخلت، روکنے کی کوشش، نواز شریف کا ناپسندیدگی کا اظہار
ماضی کی دھند
زمانے بیت گئے آج بھی زمانے میں
جنابِ میر کا لیکن کلام چل رہا ہے
اثر دُعاؤں میں آئے تو کس طرح آئے
یہاں حلال کی صورت حرام چل رہا ہے
نہیں ہے تیغ کوئی بھی نیام کے اندر
جدھر بھی جاؤ یہی قتلِ عام چل رہا ہے
جِنھیں عزیز ہے دستار سے بھی سر، اُن کا
سلام چل رہا ہے احترام چل رہا ہے
یہ بھی پڑھیں: ہم صیہونیوں پر کوئی رحم نہیں کریں گے: ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای
زندگی کا تسلسل
ابھی تلک تو زمانے میں رہ رہے ہیں ہم
ابھی تلک تو ہمارا قیام چل رہا ہے
ابھی تلک ہے وہی سِحر سبز باغوں کا
فریبِ عام برائے عوام چل رہا ہے
یہ بھی پڑھیں: آن لائن جوئے کی تشہیر، سوشل میڈیا انفلوئنسرز اقرا کنول عرف سسٹرولوجی، ندیم مبارک عرف نانی والا اور محمد حسنین شاہ کے خلاف 3 مقدمات درج
وفا اور تنہائی
وفا شعار ہے جس کو غرض وفا سے ہے
رہِ وفا میں وہ تنہا غلام چل رہا ہے
سخن کے شہر میں سودا ! ترا ہے اُونچا نام
ترے کلام کا اب تک دوام چل رہا ہے
یہ بھی پڑھیں: پولیس کا کچے میں آپریشن، موٹر وے سے اغوا ہونے والے 11 مغوی بازیاب
شہر کی حالت
تمام شہر ہے خالی، اُجڑ گئے چوپال
امیرِ شہر کی محفل میں جام چل رہا ہے
تمام شہر میں دُرّے لیے جو پھرتا ہے
اُس اِک مجاہد و ملّا کا کام چل رہا ہے
تمھارے حسن کے چرچے وفا کی باتیں بھی
تمھارے نام کا سکّہ مدام چل رہا ہے
یہ بھی پڑھیں: پہلا ون ڈے: انگلینڈ 131 رنز پر ڈھیر، جنوبی افریقہ کی سات وکٹ سے فتح
خوشی کا لمحہ
خدا کا شکر کہ سانسیں ابھی معطر ہیں
خدا کہ شکر کہ دانہ و دام چل رہا ہے
یہ کائنات کی گردش کہیں تھمی تو نہیں!
کوئی ستارہ کہیں صبح و شام چل رہا ہے
یہ بھی پڑھیں: ملک چھوڑنے کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد افغان پناہ گزینوں کی سمز بند
ادبی محفل
سُخن کے شہر میں ہے دُھوم میر و غالب کی
کہیں کہیں پہ ہمارا بھی نام چل رہا ہے
کہیں پہ درہم و دینار کی نہیں کچھ قدر
کسی کا سکّہ یہاں صبح و شام چل رہا ہے
کہیں کسی کو میسر نہیں ہے لقمہ بھی
کہیں پہ یوں ہے کہ کھل کر حرام چل رہا ہے
کوئی نہیں جسے خالی پھرایا جاتا ہو
فقیر خوش ہے سلام و طعام چل رہا ہے
نہ پوچھ اشہبِ فکر و خیال کے بارے
کہیں ہَواؤں سے بھی تیز گام چل رہا ہے
خود احتسابی
وگرنہ کوئی بھی خوبی کہاں ہے مجھ میں نبیل
یہ میرا ماں کی دُعاؤں سے کام چل رہا ہے
کلام: ڈاکٹر نبیل احمد نبیل








