فریبِ عام برائے عوام چل رہا ہے۔۔۔
بے چینی اور عدم استحکام
نہ بات بنتی ہے کوئی نہ کام چل رہا ہے
کئی دنوں سے یہی انتظام چل رہا ہے
یہ بھی پڑھیں: کھچی کینال پنجاب سے بلوچستان تک ترقی اور خوشحالی کا سفر ہے:وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا تقریب سے خطاب
خدا کا شکر
اُس اِک لکیر پہ دیکھو مدام چل رہا ہے
خدا کا شکر کہ سارا نظام چل رہا ہے
اگر ہو اور کوئی حکم تو سنا دیجے
محاذِ جاں کی طرف یہ غلام چل رہا ہے
یہ بھی پڑھیں: وینزویلا سیاسی قیدی رہا کر رہا ہے، ٹرمپ کا امریکی حملوں کی دوسری لہر منسوخ کرنے کا اعلان
ماضی کی دھند
زمانے بیت گئے آج بھی زمانے میں
جنابِ میر کا لیکن کلام چل رہا ہے
اثر دُعاؤں میں آئے تو کس طرح آئے
یہاں حلال کی صورت حرام چل رہا ہے
نہیں ہے تیغ کوئی بھی نیام کے اندر
جدھر بھی جاؤ یہی قتلِ عام چل رہا ہے
جِنھیں عزیز ہے دستار سے بھی سر، اُن کا
سلام چل رہا ہے احترام چل رہا ہے
یہ بھی پڑھیں: اسپیکر ملک محمد احمد خان نے اپوزیشن کی ریکوزیشن پر پنجاب اسمبلی کا 35واں اجلاس 28 نومبر کو طلب کر لیا
زندگی کا تسلسل
ابھی تلک تو زمانے میں رہ رہے ہیں ہم
ابھی تلک تو ہمارا قیام چل رہا ہے
ابھی تلک ہے وہی سِحر سبز باغوں کا
فریبِ عام برائے عوام چل رہا ہے
یہ بھی پڑھیں: مظفرآباد سے تاؤ بٹ تک ٹریفک بحال
وفا اور تنہائی
وفا شعار ہے جس کو غرض وفا سے ہے
رہِ وفا میں وہ تنہا غلام چل رہا ہے
سخن کے شہر میں سودا ! ترا ہے اُونچا نام
ترے کلام کا اب تک دوام چل رہا ہے
یہ بھی پڑھیں: کالرہ سٹیٹ مریم نواز ہیلتھ کلینک سرگودھامیں ڈاکٹر ٹانگ پر ٹانگ رکھے موبائل فون میں مصروف،مریضہ بے بسی کی تصویر بنی رہی، ویڈیو سامنے آگئی
شہر کی حالت
تمام شہر ہے خالی، اُجڑ گئے چوپال
امیرِ شہر کی محفل میں جام چل رہا ہے
تمام شہر میں دُرّے لیے جو پھرتا ہے
اُس اِک مجاہد و ملّا کا کام چل رہا ہے
تمھارے حسن کے چرچے وفا کی باتیں بھی
تمھارے نام کا سکّہ مدام چل رہا ہے
یہ بھی پڑھیں: عوام کی سہولت کیلئے مزید سہولت بازار لگائے جائیں، ریلیف صرف نعرہ نہیں، اسے نظر آنا چاہیے : وزیر اعلیٰ مریم نواز
خوشی کا لمحہ
خدا کا شکر کہ سانسیں ابھی معطر ہیں
خدا کہ شکر کہ دانہ و دام چل رہا ہے
یہ کائنات کی گردش کہیں تھمی تو نہیں!
کوئی ستارہ کہیں صبح و شام چل رہا ہے
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کی قومی کرکٹ ٹیم کو سہ ملکی سیریز کا فائنل جیتنے پر مبارکباد
ادبی محفل
سُخن کے شہر میں ہے دُھوم میر و غالب کی
کہیں کہیں پہ ہمارا بھی نام چل رہا ہے
کہیں پہ درہم و دینار کی نہیں کچھ قدر
کسی کا سکّہ یہاں صبح و شام چل رہا ہے
کہیں کسی کو میسر نہیں ہے لقمہ بھی
کہیں پہ یوں ہے کہ کھل کر حرام چل رہا ہے
کوئی نہیں جسے خالی پھرایا جاتا ہو
فقیر خوش ہے سلام و طعام چل رہا ہے
نہ پوچھ اشہبِ فکر و خیال کے بارے
کہیں ہَواؤں سے بھی تیز گام چل رہا ہے
خود احتسابی
وگرنہ کوئی بھی خوبی کہاں ہے مجھ میں نبیل
یہ میرا ماں کی دُعاؤں سے کام چل رہا ہے
کلام: ڈاکٹر نبیل احمد نبیل








