دادی جان دادا کی وفات کے بعد اپنی طبیعت میں ڈرامائی تبدیلیاں لے آئیں، کیونکہ گھر اور کھیتی باڑی کی نگرانی بھی اب اُن کے کندھوں پر آن پڑی تھی
مصنف کا تعارف
مصنف: ع غ جانباز
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے غریب مزید غریب، عوام کی حقیقی آمدن میں 12.2 فیصد کمی ہوئی، مفتاح اسماعیل
والدہ کی خصوصیات
والدہ (عمر بی بی) ایک کھلے رنگ و روپ، دراز قد کی مالک گھریلو خاتون ہیں۔ وہ خاموش طبع اور اپنے کام سے کام رکھتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آدھا رمضان گزر گیا ابھی تک خیبرپختونخوا حکومت نے رمضان پیکج کی تقسیم شروع نہیں کی،عظمیٰ بخاری
دادی جان کا کردار
دادی جان (رَیواں) ایک کمانڈر اور اصول پسندی کی علامت ہیں۔ انہوں نے اپنے خاوند (دادا جان) کی وفات کے بعد گھر اور کھیتی باڑی کے تمام امور کی نگرانی کی۔ اکثر زمینوں پر جانے کی ضرورت پیش آتی۔ فصلوں کی پیداوار، سیرابی، گوڈی، کھاد ڈالنے اور کٹائی کا کام بھی وہی دیکھتیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم انوارالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش
گھر کے امور اور صحت
دادی جان گھر کے تمام امور خود سنبھالتی تھیں اور بچوں کی صحت کے حوالے سے بھی سخت تھیں۔ صبح سویرے کوئی بچہ کھانے کی طلب نہیں کر سکتا تھا جب تک کہ رفع حاجت نہ کر لے۔ گھر میں ٹھوس اور مقوی غذا تیار کی جاتی تھی، اور گلاب کے پھولوں سے تیار کردہ قبض کشا "گُل قند" بھی ہمیشہ موجود رہتا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کا طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ
دیگر خصوصی چیزیں
دادی کئی طرح کے مربوں بھی تیار کر کے رکھتی تھیں، جن میں آم کے مربے کا ذائقہ آج بھی لازمی یاد ہے۔ گھر کے قریب ایک بھینس ہوتی، جس کی وجہ سے گھر کی تمام افراد کو دودھ، دہی، مکھن اور لسی ملتا تھا۔ ایک بار دادی جان نے خاص طور پر والدہ کے لیے "پنجیری" تیار کی، جو گندم کا آٹا، بادام، کشمش، گری، چاروں مغز اور گوند کتیرا سے بنی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: فیروزوالا: معذور افراد میں وہیل چیئرز تقسیم
ودھائی دینا
نومولود کی پیدائش پر گاؤں کے میراثی اور کم آمدنی والے لوگ آتے اور ودھائی دے کر غلّہ اور گُڑ کی شکل میں ودھائی کا صلہ وصول کرتے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی برطانوی وزیر اعظم سے گفتگو، ایران اسرائیل کشیدگی پر بات چیت
دادا جان کا ذکر
میرے دادا جان حاجی غلام محمد میری پیدائش سے پہلے ہی انتقال کر چکے تھے، لہٰذا انہیں دیکھنے کا شرف حاصل نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: سمگلنگ کے خلاف نشاندہی پر ایف بی آر کا عوام کے لیے 5 لاکھ روپے انعام کا اعلان
بھائی محمد شریف
جب میری پیدائش ہوئی تو گھر میں میری عمر میں چھ سات سال بڑا بھائی محمد شریف بھی موجود تھا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور سمیت پنجاب بھر میں سموگ، سپر فلو اور وائرل انفیکشنز میں تشویشناک اضافہ
بڑوہ گاؤں کا تعارف
بڑوہ گاؤں تحصیل نواں شہر (جو اب ضلع بن چکا ہے) کے مشرق کی جانب 4 میل دور ایک کچی سڑک کے ساتھ واقع ہے، جس کے راستے میں دو گاؤں بھگوراں اور برنالہ ہیں۔ بڑوہ ایک بڑا گاؤں ہے جہاں اکثریت مسلمانوں کی ہے، سوائے دو سکھ گھرانوں کے جو زرعی سازو سامان تیار کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بجلی 65 پیسے فی یونٹ سستی ہونے کا امکان
مٹھائی کی دکان
مشترکہ حصے میں ایک ہندو کی مٹھائی کی دکان تھی جہاں وہ برفی اور چینی کے "بتاشے" بناتے تھے۔ گرم گرم بتاشے کا ذائقہ بھی الگ ہی تھا۔
کتاب کی معلومات
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








