دادی جان دادا کی وفات کے بعد اپنی طبیعت میں ڈرامائی تبدیلیاں لے آئیں، کیونکہ گھر اور کھیتی باڑی کی نگرانی بھی اب اُن کے کندھوں پر آن پڑی تھی

مصنف کا تعارف

مصنف: ع غ جانباز

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم بڑے کلیئر، وہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ کس نے کتنی چینی ڈالی: طلال چوہدری

والدہ کی خصوصیات

والدہ (عمر بی بی) ایک کھلے رنگ و روپ، دراز قد کی مالک گھریلو خاتون ہیں۔ وہ خاموش طبع اور اپنے کام سے کام رکھتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مسئلہ کشمیر کا اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل چاہتے ہیں، اسحاق ڈار کا او آئی سی رابطہ گروپ کے اجلاس سے خطاب

دادی جان کا کردار

دادی جان (رَیواں) ایک کمانڈر اور اصول پسندی کی علامت ہیں۔ انہوں نے اپنے خاوند (دادا جان) کی وفات کے بعد گھر اور کھیتی باڑی کے تمام امور کی نگرانی کی۔ اکثر زمینوں پر جانے کی ضرورت پیش آتی۔ فصلوں کی پیداوار، سیرابی، گوڈی، کھاد ڈالنے اور کٹائی کا کام بھی وہی دیکھتیں۔

یہ بھی پڑھیں: میانوالی کی خصوصی عدالت نے سینئر صحافی کے جواں سال کزن کے قاتل کو سزائے موت سنا دی

گھر کے امور اور صحت

دادی جان گھر کے تمام امور خود سنبھالتی تھیں اور بچوں کی صحت کے حوالے سے بھی سخت تھیں۔ صبح سویرے کوئی بچہ کھانے کی طلب نہیں کر سکتا تھا جب تک کہ رفع حاجت نہ کر لے۔ گھر میں ٹھوس اور مقوی غذا تیار کی جاتی تھی، اور گلاب کے پھولوں سے تیار کردہ قبض کشا "گُل قند" بھی ہمیشہ موجود رہتا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہبازشریف 3روزہ سرکاری دورے پر مصرروانہ

دیگر خصوصی چیزیں

دادی کئی طرح کے مربوں بھی تیار کر کے رکھتی تھیں، جن میں آم کے مربے کا ذائقہ آج بھی لازمی یاد ہے۔ گھر کے قریب ایک بھینس ہوتی، جس کی وجہ سے گھر کی تمام افراد کو دودھ، دہی، مکھن اور لسی ملتا تھا۔ ایک بار دادی جان نے خاص طور پر والدہ کے لیے "پنجیری" تیار کی، جو گندم کا آٹا، بادام، کشمش، گری، چاروں مغز اور گوند کتیرا سے بنی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کی جانب سے لاشوں کا پراپیگنڈا کیا جارہا ہے: خواجہ آصف

ودھائی دینا

نومولود کی پیدائش پر گاؤں کے میراثی اور کم آمدنی والے لوگ آتے اور ودھائی دے کر غلّہ اور گُڑ کی شکل میں ودھائی کا صلہ وصول کرتے۔

یہ بھی پڑھیں: کس نے ڈھائے وہ منظر، کس نے مٹائے وہ منظر۔۔۔

دادا جان کا ذکر

میرے دادا جان حاجی غلام محمد میری پیدائش سے پہلے ہی انتقال کر چکے تھے، لہٰذا انہیں دیکھنے کا شرف حاصل نہیں ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: ایئر کموڈور (ر) عبدالسلام نے بنی گالہ کے قریب خودکشی کر لی

بھائی محمد شریف

جب میری پیدائش ہوئی تو گھر میں میری عمر میں چھ سات سال بڑا بھائی محمد شریف بھی موجود تھا۔

یہ بھی پڑھیں: معرکہ حق میں تاریخی فتح پر ملک بھر میں یوم تشکر، افواجِ پاکستان کو خراج تحسین

بڑوہ گاؤں کا تعارف

بڑوہ گاؤں تحصیل نواں شہر (جو اب ضلع بن چکا ہے) کے مشرق کی جانب 4 میل دور ایک کچی سڑک کے ساتھ واقع ہے، جس کے راستے میں دو گاؤں بھگوراں اور برنالہ ہیں۔ بڑوہ ایک بڑا گاؤں ہے جہاں اکثریت مسلمانوں کی ہے، سوائے دو سکھ گھرانوں کے جو زرعی سازو سامان تیار کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سابق سینیٹر عباس آفریدی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے

مٹھائی کی دکان

مشترکہ حصے میں ایک ہندو کی مٹھائی کی دکان تھی جہاں وہ برفی اور چینی کے "بتاشے" بناتے تھے۔ گرم گرم بتاشے کا ذائقہ بھی الگ ہی تھا۔

کتاب کی معلومات

نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...