خواتین کا غیر ملکی سیاحوں کے ساتھ عارضی شادی کا انکشاف انڈونیشیا کے دیہات میں

عارضی شادیاں: ایک بڑھتا ہوا رجحان

جکارتہ (ویب ڈیسک)غیر ملکی اخبار اینجلس ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ انڈونیشیا کے دیہات میں سیروتفریح کیلئے آنے والے سیاحوں کے ساتھ عارضی شادی کا رجحان پروان چڑھ رہاہے۔ اس دوران مخصوص مدت کیلئے شادی کی جاتی ہے اور اس کے عوض رقم حاصل کی جاتی ہے۔ بعد میں یہ شادی صرف مختصر وقت کے بعد طلاق پر ختم ہوجاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 26 نومبر کا پہلا ملزم محسن نقوی اور دوسرا عطا تارڑ ہے، لطیف کھوسہ

علاقے میں خواتین کی صورت حال

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق انڈونیشیا کے دیہات میں غریب گھرانوں کی خواتین پیسے کے عوض مالدار غیر ملکی سیاحوں کے ساتھ 'عارضی شادی' کر رہی ہیں، جن میں زیادہ تر مردوں کا تعلق مشرق وسطیٰ سے ہے۔ یہ کام مغربی انڈونیشیا کے ایک مشہور سیاحتی مقام پنکاک (Puncak) میں ہو رہا ہے۔ وہاں آنے والے سیاح گاؤں کی خواتین سے عارضی طور پر شادی کر کے انہیں رقم دیتے ہیں، بعدازاں کچھ روز بعد شادی کا اختتام طلاق پر ہوجاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان پہلا ٹی ٹوینٹی میچ شروع ہی نہ ہو سکا

عارضی شادیوں کی ایجنسیز

عارضی شادیاں کروانے کا پورا انٹظام باقاعدہ ایجنسیز کے ہاتھوں میں ہے جو انڈونیشیا کے کوٹہ بنگا ریزورٹ میں یہ کام انجام دیتی ہیں۔ لاس اینجلس ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق (pleasure marriages) ایک منافع بخش مگر گھناؤنا کاروبار بن چکا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس کام سے سیاحت اور مقامی معیشت کو بھی فروغ حاصل ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: Punjab Government Orders Arrest of PTI’s 1590 Workers

کاہیا کا دردناک تجربہ

انڈونیشیا کی ایک نوجوان خاتون کاہیا نے ایک عارضی بیوی کے طور پر اپنا دردناک تجربہ شیئر کیا۔ خاتون نے غیر ملکی میڈیا کو بتایا کہ اس نے مشرق وسطیٰ کے سیاحوں سے 15 سے زائد شادیاں کی ہیں۔ اس کے پہلے عارضی شوہر (ایک 50 سالہ سعودی) نے اسے 850 ڈالر (2 لاکھ 37 ہزار پاکستانی روپے) ادا کیے تھے۔ لیکن جب ایجسنی کے اہلکاروں نے خاتون سے اپنا حصہ لیا تو اسے صرف آدھا ہی ملا۔ شادی کے پانچ دن بعد وہ شخص گھر واپس چلا گیا اور ان کے درمیان 'طلاق' ہوگئی۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر تعلیم سے برٹش کونسل کے سی ای او کی ملاقات، سکول و ہائیر ایجوکیشن میں مختلف شعبوں میں معاونت پر تفصیلی مشاورت

معاشرتی مشکلات اور قانونی پیچیدگیاں

کاہیا نے انکشاف کیا کہ وہ فی شادی سے 300 ڈالر سے 500 ڈالر کے درمیان کماتی ہے، جس سے بمشکل وہ اپنے گھر کا کرایہ ادا کرتی ہیں اور اپنے بیمار دادا دادی کی کفالت کرتی ہیں۔ کاہیا نے بتایا کہ ان کے اس کام کی وجہ سے ان کے شوہر اور بیٹی دونوں ان سے علیحدہ ہو چکے ہیں۔

قانونی حیثیت

میڈیا رپورٹس کے مطابق، ان عارضی شادیوں کو انڈونیشیا کے قانون نے بھی تسلیم نہیں کیا، کیونکہ یہ شادی کے بنیادی مقصد کو شدید نقصان پہنچانے کا سبب بنتی ہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...