سپریم کورٹ: نفرت انگیز مواد پھیلانے کے ملزم کی ضمانت منظور
سپریم کورٹ کی ضمانت کی منظوری
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ نے نفرت انگیز مواد پھیلانے کے ملزم سید محمد کی ضمانت منظور کرلی۔
یہ بھی پڑھیں: قصور؛ دریائے ستلج کا پانی نواحی گاؤں ساندہ خانواہ میں داخل، معمر شخص ڈوب کر جاں بحق
سماعت کے تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، نفرت انگیز مواد پھیلانے کے ملزم سید محمد کی ضمانت کی درخواست پر سماعت جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کی۔
یہ بھی پڑھیں: اعلان کرچکے ہیں آئینی ترمیم کا حصہ نہیں بنیں گے،ہم آئین اور قانون کے ساتھ ہیں، بیرسٹر گوہر
جج کا بیان
جسٹس نعیم اختر افغان نے سوال کیا کہ "ملزم سے صرف کتاب کی ریکوری ہی ہے؟ کیا کتاب کی تقسیم کا کوئی ثبوت ہے؟"
یہ بھی پڑھیں: لکی مروت: مارٹر گولہ پھٹنے سے 5 بچے جاں بحق، 12 زخمی
پراسیکیوٹر کا اعتراض
دوران سماعت سرکاری وکیل نے بنچ پر اعتراض کیا اور کہا کہ ہائیکورٹ میں دو رکنی بنچ کے فیصلے کو عدالت سن نہیں سکتی، جس پر جسٹس نعیم اختر افغان نے وضاحت کی کہ نئے رولز کے مطابق ہم سن سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہم اپنی مسلح افواج کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں: اسد قیصر
کتاب کی تقسیم کا الزام
پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزم اسامہ بن لادن (صحرا سے سمندر تک) کتاب کی تقسیم میں ملوث ہے۔ جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ اگر شواہد ہیں تو ٹرائل میں سزا دلوانا چاہئے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اہم ریاستی اداروں پر 2 بڑے سائبر حملے ناکام بنائے جانے کا انکشاف
ملزم کی حالت
ملزم کا تعلق وزیرستان سے ہے اور اس کے وکیل سید اقبال گیلانی نے بتایا کہ ملزم ساہیوال میں محنت مزدوری کرتا ہے۔ وکیل نے مزید کہا کہ ملزم کو فروری 2025 کو سی ٹی ڈی لاہور نے گرفتار کیا، اور ستائیس دنوں بعد پانچ لاکھ میں سے صرف ایک لاکھ نو ہزار کی ریکوری ڈالی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: بابر اعظم کو انسٹاگرام پر ان فالو کرنے کے سوال پر کپتان سلمان علی آغا کا کیا جواب؟
عدالت کی ہدایات
جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ "جو باتیں فائل میں نہیں، ان پر کوئی رائے نہیں دیں گے۔" پراسیکیوٹر نے بتایا کہ کیس میں صرف چار گواہان ہیں، اور ملزم پر چارج بھی فریم ہوچکا ہے۔
نتیجہ
جسٹس نعیم اختر افغان نے ہدایت کی کہ ٹرائل میں شواہد پیش کریں، اور ہم ضمانت دے رہے ہیں۔








