سپریم کورٹ: نفرت انگیز مواد پھیلانے کے ملزم کی ضمانت منظور
سپریم کورٹ کی ضمانت کی منظوری
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ نے نفرت انگیز مواد پھیلانے کے ملزم سید محمد کی ضمانت منظور کرلی۔
یہ بھی پڑھیں: چین میں مزید 100 پاکستانی زرعی ماہرین نے تربیتی پروگرام مکمل کر لیا
سماعت کے تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، نفرت انگیز مواد پھیلانے کے ملزم سید محمد کی ضمانت کی درخواست پر سماعت جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کی۔
یہ بھی پڑھیں: پراسرار خالق، دھوکہ اور پیزا کی خریداری: بٹ کوائن سے متعلق سات دلچسپ کہانیاں
جج کا بیان
جسٹس نعیم اختر افغان نے سوال کیا کہ "ملزم سے صرف کتاب کی ریکوری ہی ہے؟ کیا کتاب کی تقسیم کا کوئی ثبوت ہے؟"
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ پنجاب کا گلگت بلتستان میں دریا میں گاڑی گرنے سے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس
پراسیکیوٹر کا اعتراض
دوران سماعت سرکاری وکیل نے بنچ پر اعتراض کیا اور کہا کہ ہائیکورٹ میں دو رکنی بنچ کے فیصلے کو عدالت سن نہیں سکتی، جس پر جسٹس نعیم اختر افغان نے وضاحت کی کہ نئے رولز کے مطابق ہم سن سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شہر قائد میں اگلے 3 روز درجۂ حرارت کتنا رہے گا ؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کر دی
کتاب کی تقسیم کا الزام
پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزم اسامہ بن لادن (صحرا سے سمندر تک) کتاب کی تقسیم میں ملوث ہے۔ جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ اگر شواہد ہیں تو ٹرائل میں سزا دلوانا چاہئے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش سے دلہنوں کی خریدوفروخت، چین نے اپنے شدید کنواروں کو خبردار کردیا
ملزم کی حالت
ملزم کا تعلق وزیرستان سے ہے اور اس کے وکیل سید اقبال گیلانی نے بتایا کہ ملزم ساہیوال میں محنت مزدوری کرتا ہے۔ وکیل نے مزید کہا کہ ملزم کو فروری 2025 کو سی ٹی ڈی لاہور نے گرفتار کیا، اور ستائیس دنوں بعد پانچ لاکھ میں سے صرف ایک لاکھ نو ہزار کی ریکوری ڈالی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی کے لیے جاسوسی کے الزام میں ایران میں 22 افراد گرفتار
عدالت کی ہدایات
جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ "جو باتیں فائل میں نہیں، ان پر کوئی رائے نہیں دیں گے۔" پراسیکیوٹر نے بتایا کہ کیس میں صرف چار گواہان ہیں، اور ملزم پر چارج بھی فریم ہوچکا ہے۔
نتیجہ
جسٹس نعیم اختر افغان نے ہدایت کی کہ ٹرائل میں شواہد پیش کریں، اور ہم ضمانت دے رہے ہیں۔








