سپریم کورٹ: نفرت انگیز مواد پھیلانے کے ملزم کی ضمانت منظور
سپریم کورٹ کی ضمانت کی منظوری
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ نے نفرت انگیز مواد پھیلانے کے ملزم سید محمد کی ضمانت منظور کرلی۔
یہ بھی پڑھیں: 50 فیصد بھی کرپشن ختم ہو جائے تو آئی ایم ایف کی ضرورت نہیں رہے گی: خواجہ آصف
سماعت کے تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، نفرت انگیز مواد پھیلانے کے ملزم سید محمد کی ضمانت کی درخواست پر سماعت جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کی۔
یہ بھی پڑھیں: پختونخوا: سرکاری محکموں کی میٹنگز 100 فیصد ورچوئل ہونگی، 50 فیصد ورک فرام ہوم نافذ کرنے کا فیصلہ
جج کا بیان
جسٹس نعیم اختر افغان نے سوال کیا کہ "ملزم سے صرف کتاب کی ریکوری ہی ہے؟ کیا کتاب کی تقسیم کا کوئی ثبوت ہے؟"
یہ بھی پڑھیں: پاکستانیوں کے لیے خوشخبری، دسمبر کے تیسرے یا چوتھے ہفتے میں بارشوں کا امکان
پراسیکیوٹر کا اعتراض
دوران سماعت سرکاری وکیل نے بنچ پر اعتراض کیا اور کہا کہ ہائیکورٹ میں دو رکنی بنچ کے فیصلے کو عدالت سن نہیں سکتی، جس پر جسٹس نعیم اختر افغان نے وضاحت کی کہ نئے رولز کے مطابق ہم سن سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: 1 ہزار 400 کلو ایکسپائر فروزن گوشت تلف
کتاب کی تقسیم کا الزام
پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزم اسامہ بن لادن (صحرا سے سمندر تک) کتاب کی تقسیم میں ملوث ہے۔ جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ اگر شواہد ہیں تو ٹرائل میں سزا دلوانا چاہئے۔
یہ بھی پڑھیں: اداکار عمران ہاشمی پیٹ کے ٹشوز کی سرجری کے بعد سیٹ پر واپس آ گئے
ملزم کی حالت
ملزم کا تعلق وزیرستان سے ہے اور اس کے وکیل سید اقبال گیلانی نے بتایا کہ ملزم ساہیوال میں محنت مزدوری کرتا ہے۔ وکیل نے مزید کہا کہ ملزم کو فروری 2025 کو سی ٹی ڈی لاہور نے گرفتار کیا، اور ستائیس دنوں بعد پانچ لاکھ میں سے صرف ایک لاکھ نو ہزار کی ریکوری ڈالی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: پولیس کے خلاف مبینہ طور پر نازیبا، ہتک آمیز اور نفرت انگیز زبان استعمال کرنے والا ٹک ٹاکر گرفتار
عدالت کی ہدایات
جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ "جو باتیں فائل میں نہیں، ان پر کوئی رائے نہیں دیں گے۔" پراسیکیوٹر نے بتایا کہ کیس میں صرف چار گواہان ہیں، اور ملزم پر چارج بھی فریم ہوچکا ہے۔
نتیجہ
جسٹس نعیم اختر افغان نے ہدایت کی کہ ٹرائل میں شواہد پیش کریں، اور ہم ضمانت دے رہے ہیں۔








