خواتین کو کام کی جگہ پر ہراساں کرنے کا کیس؛ لاہور ہائیکورٹ نے نیا قانونی نکتہ طے کر دیا
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے خاتون ٹیچر کو ہراساں کرنے پر ڈائریکٹر مینجمنٹ ووکیشنل انسٹیٹوٹ کو نوکری سے نکالنے کا محتسب پنجاب کا فیصلہ درست قرار دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بینظیر بھٹو شہید کی برسی پر پاکستان پیپلزپارٹی کی تعزیتی تقریب
درخواست گزار کی حیثیت
تفصیلات کے مطابق عدالت نے درخواست گزار کی نوکری پر بحالی کے لئے دائر کردہ درخواست مسترد کر دی۔ جسٹس راحیل کامران نے عمر شہزاد کی درخواست پر 17 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ جسٹس راحیل کامران شیخ نے ایک نیا قانونی نکتہ طے کیا جس کے مطابق خواتین کو کام کرنے کی جگہ پر ہراساں کرنے کی حدود صرف آفس بلڈنگ تک محدود نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق کیس، 3مارچ تک وفاقی حکومت سے جواب طلب
شکایت کنندہ کی الزامات
تحریری فیصلے کے مطابق جسٹس راحیل کامران شیخ نے کہا کہ درخواست گزار کے مطابق شکایت کنندہ کے الزامات دفتر میں نہیں بلکہ گھر میں ہراساں کرنے کے ہیں۔ وکیل درخواست گزار کے مطابق محتسب پنجاب صرف ان مقدمات کی سماعت کر سکتا ہے جہاں خواتین کو کام کی جگہ پر ہراساں کیا گیا ہو۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں پوسٹ آفس کی تاریخ کا سب سے بڑا سکینڈل بے نقاب
عدالت کے تحریری فیصلے کے نکات
عدالت کے تحریری فیصلے میں لکھا ہے کہ موجودہ کیس میں درخواست گزار نے شکایت کنندہ کو دھمکی دی کہ اگر تعلقات نہ بنائے تو نوکری جائے گی، یہ الزامات اختیارات کا غلط استعمال کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ خواتین اکثر ہراسمنٹ کے واقعات کا فوری طور پر اظہار کرنے سے گریز کرتی ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اس پر راضی ہیں۔
تحریری فیصلہ یہ بھی بیان کرتا ہے کہ خواتین اکثر اپنی عزت، خاندانی وقار اور معاشرتی بدنامی کے خوف سے ہراسمنٹ کے واقعات کا اظہار نہیں کرتیں۔ خاتون کی ابتدائی خاموشی، انہیں بعد میں واقعے کو رپورٹ کرنے کے حق سے محروم نہیں کرتی۔
یہ بھی پڑھیں: آئی سی سی کا دوہرا معیار، بنگلہ دیش کے صحافیوں کو ورلڈکپ کی کوریج سے بھی روک دیا
درخواست گزار کی خامیاں
درخواست گزار کا شکایت کنندہ کے ذاتی کردار پر بات کرنے کی کوشش اس کے کنڈکنٹ کو پس پردہ نہیں ڈال سکتی، کیونکہ خاتون ٹیچر نے ہراساں کرنے کی درخواست دی ہے۔ شکایت کنندہ کے مطابق درخواست گزار اسے غلط نظروں سے دیکھتا تھا اور ناجائز تعلقات بنانا چاہتا تھا۔ درخواست گزار نے دھمکی دی کہ اگر بات نہ مانی تو اس کی تعیناتی کینسل کر دی جائے گی۔ ستمبر 2022 میں درخواست گزار اس کے گھر آیا اور زبردستی زیادتی کرنے کی کوشش کی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی ایئر لائن کے جہاز کا پورا عملہ ہی دوران پرواز سو گیا پھر کیا ہوا؟ حیران کن انکشاف
مقدمے کی تفصیلات
درخواست گزار کے مطابق شکایت کنندہ نے جھوٹا پروپیگنڈا کیا، کیونکہ شکایت کنندہ کا بھائی ٹیوٹا میں ملازم تھا جسے ٹیوٹا نے کوارٹر الاٹ کیا تھا اور کوارٹر کی الاٹمنٹ کینسل ہونے پر شکایت کنندہ نے ذاتی رنجش نکالی۔
یہ بھی پڑھیں: سب کو فیلڈ میں ہونا چاہیے”وزیراعلیٰ پنجاب کا کمشنرز اورڈپٹی کمشنرز سے ویڈیولنک خطاب
عدالت کے اہم نکات
تحریری فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ محتسب پنجاب نے شکایت کنندہ کی اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے درخواست گزار کو نوکری سے نکال دیا۔ درخواست گزار نے محتسب پنجاب کے فیصلے کے خلاف گورنر کو اپیل کی، مگر گورنر نے اس فیصلے کو درست مانتے ہوئے اپیل کو رد کر دیا۔ درخواست گزار نے ہائیکورٹ سے رجوع کیا، اور عدالتیں صرف ان معاملات میں مداخلت کر سکتی ہیں جہاں قانونی بے قاعدگی موجود ہو۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے شفقت علی خان متحدہ عرب امارات میں نئے سفیر کے طور پر پہنچ گئے
محتسب پنجاب کا کردار
درخواست گزار نے شکایت کنندہ کے الزامات سے انکار نہیں کیا، مگر اس نے موقف اختیار کیا کہ شکایت کنندہ نے معاملے پر فوجداری کارروائی کی۔ درخواست گزار کا یہ موقف ہے کہ اگر فوجداری کارروائی جاری ہو تو محتسب کارروائی نہیں کر سکتا۔
خلاصہ
محتسب پنجاب کو صرف ڈسپلنری ایکشن لینے کا اختیار ہے، وہ فوجداری کارروائی کی سزا نہیں دے سکتا۔ تاہم، عدالت نے درخواست گزار کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کوئی لاقانونیت نہیں پائی گئی، اور درخواست گزار کی استدعا کو مسترد کیا گیا۔








