خواتین کو کام کی جگہ پر ہراساں کرنے کا کیس؛ لاہور ہائیکورٹ نے نیا قانونی نکتہ طے کر دیا
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے خاتون ٹیچر کو ہراساں کرنے پر ڈائریکٹر مینجمنٹ ووکیشنل انسٹیٹوٹ کو نوکری سے نکالنے کا محتسب پنجاب کا فیصلہ درست قرار دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں اربن فلڈنگ، مون سون اور ہیٹ ویو سے 15 سال میں 3،130 ہلاکتیں
درخواست گزار کی حیثیت
تفصیلات کے مطابق عدالت نے درخواست گزار کی نوکری پر بحالی کے لئے دائر کردہ درخواست مسترد کر دی۔ جسٹس راحیل کامران نے عمر شہزاد کی درخواست پر 17 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ جسٹس راحیل کامران شیخ نے ایک نیا قانونی نکتہ طے کیا جس کے مطابق خواتین کو کام کرنے کی جگہ پر ہراساں کرنے کی حدود صرف آفس بلڈنگ تک محدود نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی سی بی نے سب سے اہم فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ قائد اعظم ٹرافی کو ملتوی کر دیا
شکایت کنندہ کی الزامات
تحریری فیصلے کے مطابق جسٹس راحیل کامران شیخ نے کہا کہ درخواست گزار کے مطابق شکایت کنندہ کے الزامات دفتر میں نہیں بلکہ گھر میں ہراساں کرنے کے ہیں۔ وکیل درخواست گزار کے مطابق محتسب پنجاب صرف ان مقدمات کی سماعت کر سکتا ہے جہاں خواتین کو کام کی جگہ پر ہراساں کیا گیا ہو۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں ضمنی انتخابات، قومی اسمبلی کی 5 اور صوبائی اسمبلی کی 6 نشستوں پر لیگی امیدواروں کو برتری حاصل
عدالت کے تحریری فیصلے کے نکات
عدالت کے تحریری فیصلے میں لکھا ہے کہ موجودہ کیس میں درخواست گزار نے شکایت کنندہ کو دھمکی دی کہ اگر تعلقات نہ بنائے تو نوکری جائے گی، یہ الزامات اختیارات کا غلط استعمال کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ خواتین اکثر ہراسمنٹ کے واقعات کا فوری طور پر اظہار کرنے سے گریز کرتی ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اس پر راضی ہیں۔
تحریری فیصلہ یہ بھی بیان کرتا ہے کہ خواتین اکثر اپنی عزت، خاندانی وقار اور معاشرتی بدنامی کے خوف سے ہراسمنٹ کے واقعات کا اظہار نہیں کرتیں۔ خاتون کی ابتدائی خاموشی، انہیں بعد میں واقعے کو رپورٹ کرنے کے حق سے محروم نہیں کرتی۔
یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا پر حکیم شہزاد لوہا پاڑ کی مبینہ گرفتاری کی افواہیں
درخواست گزار کی خامیاں
درخواست گزار کا شکایت کنندہ کے ذاتی کردار پر بات کرنے کی کوشش اس کے کنڈکنٹ کو پس پردہ نہیں ڈال سکتی، کیونکہ خاتون ٹیچر نے ہراساں کرنے کی درخواست دی ہے۔ شکایت کنندہ کے مطابق درخواست گزار اسے غلط نظروں سے دیکھتا تھا اور ناجائز تعلقات بنانا چاہتا تھا۔ درخواست گزار نے دھمکی دی کہ اگر بات نہ مانی تو اس کی تعیناتی کینسل کر دی جائے گی۔ ستمبر 2022 میں درخواست گزار اس کے گھر آیا اور زبردستی زیادتی کرنے کی کوشش کی۔
یہ بھی پڑھیں: سرگودھا میں ڈاکٹرز کی مبینہ غفلت کے باعث خاتون جاں بحق
مقدمے کی تفصیلات
درخواست گزار کے مطابق شکایت کنندہ نے جھوٹا پروپیگنڈا کیا، کیونکہ شکایت کنندہ کا بھائی ٹیوٹا میں ملازم تھا جسے ٹیوٹا نے کوارٹر الاٹ کیا تھا اور کوارٹر کی الاٹمنٹ کینسل ہونے پر شکایت کنندہ نے ذاتی رنجش نکالی۔
یہ بھی پڑھیں: شدید دھند: لاہور کا فلائٹ آپریشن 8 گھنٹے سے بند، 5 پروازیں اسلام آباد اتار لی گئیں
عدالت کے اہم نکات
تحریری فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ محتسب پنجاب نے شکایت کنندہ کی اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے درخواست گزار کو نوکری سے نکال دیا۔ درخواست گزار نے محتسب پنجاب کے فیصلے کے خلاف گورنر کو اپیل کی، مگر گورنر نے اس فیصلے کو درست مانتے ہوئے اپیل کو رد کر دیا۔ درخواست گزار نے ہائیکورٹ سے رجوع کیا، اور عدالتیں صرف ان معاملات میں مداخلت کر سکتی ہیں جہاں قانونی بے قاعدگی موجود ہو۔
یہ بھی پڑھیں: صحافی جیسمین منظور کا سابق شوہر پر تشدد کا الزام، سعد کی موجودہ بیوی کا بیان بھی سامنے آ گیا
محتسب پنجاب کا کردار
درخواست گزار نے شکایت کنندہ کے الزامات سے انکار نہیں کیا، مگر اس نے موقف اختیار کیا کہ شکایت کنندہ نے معاملے پر فوجداری کارروائی کی۔ درخواست گزار کا یہ موقف ہے کہ اگر فوجداری کارروائی جاری ہو تو محتسب کارروائی نہیں کر سکتا۔
خلاصہ
محتسب پنجاب کو صرف ڈسپلنری ایکشن لینے کا اختیار ہے، وہ فوجداری کارروائی کی سزا نہیں دے سکتا۔ تاہم، عدالت نے درخواست گزار کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کوئی لاقانونیت نہیں پائی گئی، اور درخواست گزار کی استدعا کو مسترد کیا گیا۔








