اگر اچکزئی کے پاس مینڈیٹ ہے تو ضرور مذاکرات کریں لیکن اگر علیمہ خان کہہ رہی ہیں کہ کسی کے پاس مذاکرات کے اختیارات موجود نہیں تو ضرور کوئی میسج آیا ہوگا، بیرسٹر گوہر
پی ٹی آئی چئیرمین کا بیان
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا ہے کہ اچکزئی کے پاس اگر مینڈیٹ موجود ہے تو ضرور مذاکرات کریں لیکن اگر علیمہ خان کہہ رہی ہیں کہ کسی کے پاس مذاکرات کے اختیارات موجود نہیں تو ضرور کوئی مسیج آیا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی قازقستان کے ہم منصب سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال
میڈیا سے گفتگو
داہگل ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج ملاقات کا لگ تو نہیں رہا لیکن ملاقات ضرور ہونی چاہیے، مسائل بڑھ رہے ہیں ملک پہلے مشکلات سے دوچار ہے کچھ نہ ہو تو سال ختم ہونے سے قبل ملاقات ہونی چاہیے۔ بہنوں کی ملاقات پر کوئی سیاست نہیں ہونی چاہیے، بشریٰ بی بی کی فیملی کو بھی ملاقات کی اجازت ملنی چاہیے۔ عوام کو بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے معلوم ہونا چاہیے یہ ہمارا حق بنتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چینی ملکیت والی کمپنی وولوو کارز نے 3 ہزار ملازمین نکالنے کا اعلان کر دیا، وجہ کیا بنی؟
مذاکرات کا معاملہ
بیرسٹر گوہر کا مزید کہنا تھا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان جو مذاکرت کی باتیں ہورہی ہیں اس پر علیمہ خان کا موقف موجود ہے میں کوئی بات نہیں کروں گا۔ اچکزئی کے پاس اگر مینڈیٹ موجود ہے تو ضرور بات کرلیں، میرے پاس جو تحریری طور پر موجود ہے اس کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس ہی مذاکرات کریں، اگر مذاکرات نہیں کرنے تو نہ کریں یہ اختیار بھی ان کے پاس ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چوہدری نثار کی عمران خان سے ملاقات کو روکنے کے لیے شہبازشریف نے کیا کردار ادا کیا؟ منیب فاروق کا بڑا دعویٰ
حکومتی رویہ اور مطالبات
ان کا کہنا تھا کہ مزاحمت ہو یا مفاہمت ہو راستہ کھلنا چاہے۔ ہم حکومت میں ہوتے تو کسی اور طریقے سے سوچتے، ہم کیا کریں گے یہ الگ بات ہے۔ حکومت کا رویہ بالکل غلط ہے، حکومتیں ایسی نہیں ہوتیں، حکومت اپوزیشن کا مینڈیٹ نہیں لیتی بلکہ ساتھ ملاتی ہیں اور مذاکرات کرتی ہیں۔ یہاں پولیس کھڑی ہے، ہم کیا کریں؟ ہم آتے ہیں واپس چلے جاتے ہیں، عدالت کے آرڈر ہوئے عمل نہیں ہورہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عمل درآمد کرائے، یہ ان کی ذمہ داری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شہرت کے بعد کیا قیمت چکانی پڑی؟ اداکارہ نعیمہ بٹ نے حقیقت سے پردہ اٹھا دیا
اجلاس کا مطالبہ
انہوں نے کہا کہ حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ عدالت کے احکامات پر عمل درآمد کر کے بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی ضرور ملاقات کروائیں۔ جو ہوگیا سو ہوگیا، آج ہم کدھر کھڑے ہیں؟ گزشتہ 70 سال سے اس حمام میں سب ایک جیسے ہیں، بانی پی ٹی آئی کے لیے باہر ممالک سے بھی لوگ رہائی کے لیے خواہش مند ہیں۔ سب لوگ چاہتے ہیں کہ ملک مشکل سے نکلے۔ اگر کوئی بندہ مسئلے کے حل کی کوشش کر رہا تو اس کی پذیرائی ہونی چاہیے۔
ذاتی بیان
بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ جہاں تک میری ذاتی بات ہے، بس اب بہت ہوگیا۔








