مسجد نبوی کے خوش الحان مؤذن شیخ فیصل انتقال فرما گئے، آخری دلگداز اذان وائرل
مسجد نبوی میں اذان دینے والے شیخ فیصل نعمان کا انتقال
جدہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) مسجد نبوی میں اللہ کے مہمانوں کو عبادت کے لیے آواز دینے والی رقت آمیز اور پُرسوز آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں: سابق ٹیسٹ کرکٹر ذاکر بٹ چل بسے
شیخ فیصل نعمان کی خدمات
عرب میڈیا کے مطابق 25 سال سے اذان دینے کی سعادت حاصل کرنے والے شیخ فیصل نعمان خالق حقیقی سے جاملے۔ انھیں سنہ 2000 میں باضابطہ طور پر مؤذن مقرر کیا گیا تھا۔ اذان دینا شیخ فیصل نعمان کے لیے محض ایک ذمہ داری نہیں بلکہ خاندانی وراثت تھی۔ ان کے دادا اور والد دونوں مسجد نبوی میں موذن کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔
ان کے والد کم عمری میں ہی اس عظیم منصب پر فائز ہوئے اور 90 برس سے زائد عمر تک مسجد نبوی میں اذان دیتے رہے، بعد ازاں یہ سعادت شیخ فیصل نعمان کو نصیب ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: ایک بڑے سیاسی گھرانے کی کسی شخصیت کے کرپٹو میں 100 ملین ڈالر ڈوبنے کی افواہ پر مرزا شہزاد اکبر کا ردعمل بھی آگیا
آخری رسومات
شیخ فیصل نعمان کی نماز جنازہ فجر میں ادا کی گئی اور تدفین مدینہ منورہ کے تاریخی جنت البقیع قبرستان میں کی گئی۔ جنت البقیع وہ مقدس مقام ہے جہاں رسول اللہ ﷺ کے اہل خانہ اور جلیل القدر صحابہ کرام آرام فرما ہیں اور اسی بابرکت سرزمین میں شیخ فیصل نعمان کو بھی سپرد خاک کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ریٹائرمنٹ کے بعد فیض حمید بانی پی ٹی آئی کے پولیٹیکل ایڈوائزر رہے : عطاء تارڑ
شیخ فیصل نعمان کی آخری اذان
مسجد نبوی کی انتظامیہ نے ایک جذباتی پیغام میں ان کی آخری اذان بھی شیئر کی جو انھوں نے 2 نومبر کو دی تھی اور یہی اذان ان کی زندگی کی آخری پکار ثابت ہوئی۔ ان کی آواز اب مسجد نبوی کے ماحول کا ایک مستقل حصہ بن چکی ہے جو ہمیشہ ہماری سماعتوں میں گونجتی رہے گی۔
عزت اور دعا
مسجد حرام اور مسجد نبوی کے امور کے سربراہ شیخ ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے لیے بلندی درجات اور مغفرت کی دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ شیخ فیصل نعمان نے اپنی زندگی مسجد نبوی میں اذان کے ذریعے اللہ کے پیغام کو بلند کرنے میں گزاری اور یہ خدمت ان کے لیے صدقہ جاریہ رہے گی۔
Last Adhan raised by Sheikh Faisal Nouman رحمه الله in Masjid An Nabawi on 11 Jumada Al Awwal 1447 | 2nd November 2025 pic.twitter.com/WzM5MwRh21
— Inside the Haramain (@insharifain) December 22, 2025








