ایشیز سیریز میں مصروف عثمان خواجہ کی نوعمر بیٹیاں نسل پرستانہ حملے کی زد میں آگئیں
عثمان خواجہ کی فیملی کو نسل پرستانہ حملوں کا سامنا
سڈنی (ویب ڈیسک) پاکستانی نژاد آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ کی فیملی کو سوشل میڈیا پر شدید نسل پرستانہ اور مذہبی تعصب کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے ایران میں تعینات سفارت کاروں کے اہل خانہ اور غیر ضروری عملے کے انخلا کا فیصلہ کرلیا
فائرنگ کے واقعے کے بعد کی صورتحال
تفصیلات کے مطابق جہاں سڈنی کے بونڈائی بیچ فائرنگ واقعے کے بعد پورے آسٹریلیا میں سوگ کا سماں تھا، وہیں کچھ شدت پسندوں نے نسل پرستانہ حملے میں عثمان خواجہ کی نوعمر بیٹیوں کو نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو چیمپئنز ٹرافی سے کتنے پیسے ملیں گے ؟ پتا چل گیا
عثمان خواجہ کا خاموشی برتنا
عثمان خواجہ ان دنوں ایشیز سیریز میں مصروف ہیں اور انہوں نے خود ان پیغامات پر عوامی ردعمل نہیں دیا، تاہم اہلیہ ریچل خواجہ نے سوشل میڈیا پر موصول ہونے والے توہین آمیز اور نفرت انگیز پیغامات شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ ایسی نفرت انگیزی ماضی میں بھی ہوتی رہی، لیکن حالیہ دنوں میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ کی حسان نیازی کی ملٹری کورٹ کی تمام کارروائی کیخلاف درخواست پر سماعت سے معذرت
سوشل میڈیا پر توہین آمیز پیغامات
Australian cricketer Usman Khawaja’s family faced a wave of Islamophobic and racist online abuse following the tragic mass shooting at Bondi Beach in Sydney, with trolls calling his children “future school blasters” and telling the family to “go home” to Pakistan.… pic.twitter.com/X0fXQhUSWy
— Maktoob (@MaktoobMedia) December 23, 2025
نفرت کا سامنا اور اتحاد کی ضرورت
انہوں نے کہا کہ یہ پیغامات نہ صرف تکلیف دہ بلکہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہیں کہ مشکل اوقات میں اقلیتی کمیونٹیز کو کس طرح اجتماعی نفرت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس واقعے کے بعد کھیلوں اور سماجی حلقوں نے نسل پرستی، اسلاموفوبیا اور ہر قسم کی نفرت کے خلاف یکجہتی اور سخت موقف اپنانے کی اپیل کی ہے۔








