بلدیاتی ایکٹ 2025 کے خلاف درخواستوں پر مزید دلائل طلب
لاہور ہائی کورٹ میں بلدیاتی ایکٹ 2025 کی سماعت
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائی کورٹ نے بلدیاتی ایکٹ 2025 کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران فریقین سے مزید دلائل طلب کرتے ہوئے کارروائی ملتوی کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: عراقی مزاحمت کاروں نے اربیل میں امریکی ایئر بیس پر ریڈار سسٹم کو تباہ کردیا
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق بلدیاتی ایکٹ 2025 کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس سلطان تنویر نے کی۔ عدالت میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، جماعت اسلامی اور دیگر کی جانب سے دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل آفس نے خصوصی نوٹس کا جواب جمع کرایا۔
یہ بھی پڑھیں: قومی کرکٹر سلمان مرزا نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات پر نجی چینل کے صحافی کو قانونی نوٹس بھیج دیا
اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کا مؤقف
اس موقع پر اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل بیرسٹر سعد غازی نے مؤقف اختیار کیا کہ بلدیاتی ایکٹ 2025 میں ایسی کوئی پابندی موجود نہیں جس کے تحت امیدوار پارٹی ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ نہ لے سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: گیس لیکج کے باعث دھماکہ، سابق سینیٹر عباس آفریدی سمیت 3 افراد زخمی
عدالت کے ریمارکس
سماعت کے دوران جسٹس سلطان تنویر نے ریمارکس دیئے کہ اسمبلی فلور کی بہت اہمیت ہوتی ہے اور وہاں سے کسی ادارے کو ٹارگٹ نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام ادارے ایک دوسرے کا احترام کریں، ہم آپ کا احترام کریں گے، آپ ہمارا احترام کریں، پاکستان کو آگے بڑھنا ہے اور اداروں کو سیکھنا چاہیے کہ باہمی احترام لازم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مشرقی وسطی جنگ کے باعث پروازوں کا شیڈول بری طرح متاثر
پارلیمنٹ کا اختیار
عدالت نے واضح کیا کہ قانون سازی پارلیمنٹ کا اختیار ہے اور عدالت آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی فیصلہ کرے گی۔ عدالت چاہتی ہے کہ اس کیس کا فیصلہ بلدیاتی انتخابات سے قبل ہو جائے۔
درخواست گزاروں کے وکلا کا مؤقف
اس سے قبل درخواست گزاروں کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ بلدیاتی ایکٹ 2025 کی متعدد شقیں آئین سے متصادم ہیں اس لیے عدالت اس قانون کو کالعدم قرار دے۔
بعدازاں، لاہور ہائی کورٹ نے درخواست گزاروں کے وکلا کو مزید دلائل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔








